تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 324 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 324

۳۲۴ سورة البينة تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب انبیاء کے وصفی نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیئے گئے کیونکہ آپ تمام انبیاء کے کمالات متفرقہ اور فضائل مختلفہ کے جامع تھے اور اسی طرح جیسے تمام انبیاء کے کمالات آپ کو ملے قرآن شریف بھی جمیع کتب کی خوبیوں کا جامع ہے چنانچہ فرمایا فِيهَا كُتُب قيمة اور مَا فَرَّطْنَا فِي الْكِتب (الانعام :٣٩)۔الحکم جلدے نمبر ۸ مورخه ۲۸ رفروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳) اِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ اَهْلِ الْكِتَب وَالْمُشْرِكِينَ فِي نَارِ جَهَنَّمَ خَلِدِينَ فِيهَا أولبِكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِيَّةِ إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصّلِحَتِ أُولبِكَ هُمُ خَيْرُ البَرِيَّةِ جب یہ آیتیں اتریں کہ مشرکین رجس ہیں پلید ہیں شر البریہ ہیں سفہاء ہیں اور ذریت شیطان ہیں اور ان کے معبود وقود النار اور حصب جہنم ہیں تو ابو طالب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا کر کہا کہ اے میرے بھتیجے اب تیری دشنام دہی سے قوم سخت مشتعل ہوگئی ہے اور قریب ہے کہ تجھ کو ہلاک کریں اور ساتھ ہی مجھ کو بھی۔تو نے ان کے عقل مندوں کو سفیہ قرار دیا اور ان کے بزرگوں کو شتر البر یہ کہا اور ان کے قابل تعظیم معبودوں کا نام ہیزم جہنم اور وقو دالتا ررکھا اور عام طور پر ان سب کو رجس اور ذریت شیطان اور پلید ٹھہرایا میں تجھے خیر خواہی کی راہ سے کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو تھام اور دشنام دہی سے باز آجاور نہ میں قوم کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں کہا کہ اے چا یہ دشنام دہی نہیں ہے بلکہ اظہار واقعہ اور نفس الامر کا عین محل پر بیان ہے اور یہی تو کام ہے جس کے لئے میں بھیجا گیا ہوں اگر اس سے مجھے مرنا در پیش ہے تو میں بخوشی اپنے لئے اس موت کو قبول کرتا ہوں میری زندگی اسی راہ میں وقف ہے میں موت کے ڈر سے اظہار حق سے رک نہیں سکتا اور اسے چھا اگر تجھے اپنی کمزوری اور اپنی تکلیف کا خیال ہے تو تو مجھے پناہ میں رکھنے سے دست بردار ہو جا بخدا مجھے تیری کچھ بھی حاجت نہیں میں احکام الہی کے پہنچانے سے کبھی نہیں رکوں گا مجھے اپنے مولیٰ کے احکام جان سے زیادہ عزیز ہیں بخدا اگر میں اس راہ میں مارا جاؤں تو چاہتا ہوں کہ پھر بار بار زندہ ہو کر ہمیشہ اسی راہ میں مرتا رہوں۔یہ خوف کی جگہ نہیں بلکہ مجھے اس میں بے انتہاء لذت ہے کہ اس کی راہ میں دکھ اٹھاؤں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ تقریر کر رہے تھے اور چہرہ پر سچائی اور نورائیت سے بھری ہوئی رقت نمایاں ہورہی تھی اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ ولم یہ تقریر ختم کر چکے تو حق کی روشنی دیکھ کر