تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 323
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۲۳ سورة البينة ا تفرقہ کے زمانہ میں خدا نے جدا جدا ہر ایک ملک میں نبی بھیجے اور کسی ملک سے بخل نہیں کیا لیکن آخری زمانہ میں جب تمام ملکوں میں ایک قوم بننے کی استعداد پیدا ہو گئی تب سب ہدایتوں کو اکٹھا کر کے ایک ایسی زبان میں جمع کر دیا جو وہ ام الالسنہ ہے یعنی زبان عربی۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۲۹،۴۲۸) یہ قرآن شریف وہ پاک اوراق ہیں جن میں تمام آسمانی کتابوں کا مغز اور لب لباب بھرا ہوا ہے۔اور لیہ سرمه چشم آرید، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۶۱، ۶۲ حاشیه ) وہ تمام صداقتوں پر مشتمل ہے۔الحق لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۰) چونکہ حضرت عیسی علیہ السلام کی ہمت اور توجہ دنیوی برکات کی طرف زیادہ مصروف تھی اس لئے ان کی امت میں یہ اثر ہوا کہ رفتہ رفتہ دین سے تو وہ انکی بے بہرہ ہو گئے مگر دنیا کی برکتیں جیسا کہ علم طبعی ، علم ڈاکٹری، علم تجارت، علم فلاحت ، علم جہاز رانی اور ریل رانی وغیرہ اس میں بے نظیر ہو گئے برخلاف اس کے دینی عمیق اسرار مسلمانوں کے حصے میں آئے اور دنیا میں پیچھے رہے۔روحانی برکات کی یادگار کے لئے قرآن شریف بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دائی معجزہ دیا گیا جو بموجب منطوق آيت فِيهَا كُتُب قيمة تمام دینی معارف کا جامع ہے۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۴۰۴ حاشیه ) ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن اصلاح کامل اور تزکیہ اتم اور اکمل کے لئے آیا ہے اور وہ خود دعوی کرتا ہے کہ تمام کامل سچائیاں اس کے اندر ہیں جیسا کہ فرماتا ہے فِيهَا كُتب قيمة تو اس صورت میں ضرور ہے کہ جہاں تک سلسلہ معارف اور علوم الہیہ کا مند ہو سکے وہاں تک قرآنی تعلیم کا بھی دامن پہنچا ہوا ہو اور یہ بات صرف میں نہیں کہتا بلکہ قر آن خود اس صفت کو اپنی طرف منسوب کرتا ہے اور اپنا نام اکمل الکتب رکھتا ہے۔پس ظاہر ہے کہ اگر معارف الہیہ کے بارے میں کوئی حالت منتظرہ باقی ہوتی جس کا قرآن شریف نے ذکر نہیں کیا تو قرآن شریف کا حق نہیں تھا کہ وہ اپنا نام اکمل الکتب رکھتا۔(سراج منیر ، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۴۱) قرآن نے جس قدر تقویٰ کی راہیں اختیار کیں اور ہر طرح کے انسانوں اور مختلف عقل والوں کی پرورش کرنے کے طریق سکھلائے۔ایک جاہل ، عالم اور فلسفی کی پرورش کے راستہ ، ہر طبقہ کے سوالات کے جوابات غرضیکہ کوئی فرقہ نہ چھوڑا جس کی اصلاح کے طریق نہ بتائے۔یہ ایک دقیقہ وقت تھا جیسے کہ فرمایا فيهَا كُتُب قيمة یعنی یہ وہ صحیفہ ہے جس میں کل سچائیاں ہیں سو یہ کیسی کتاب مبارک ہے کہ اس میں سب سامان اعلیٰ درجہ تک پہنچنے کے موجود ہیں۔رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۵۲)