تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 312
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ٣١٢ سورة القدر قف है تحریکات قوت سے مستعد دلوں میں اپنا کام کرتی ہیں۔ہر یک سعید الفطرت جاگ اٹھتا ہے اور نہیں جانتا ہے کہ اس کو کس نے جگایا۔ہر ایک صحیح الجبلت اپنے اندر ایک تبدیلی پاتا ہے اور نہیں معلوم کر سکتا کہ یہ تبدیلی کیوں کر پیدا ہوئی۔غرض ایک جنبش سی دلوں میں شروع ہو جاتی ہے اور نادان خیال کرتے ہیں کہ یہ جنبش خود بخود پیدا ہوگئی لیکن در پردہ ایک رسول یا مجدد کے ساتھ یہ انوار نازل ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم اور احادیث کی رو سے یہ امر نہایت انکشاف کے ساتھ ثابت ہے جیسا کہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے إِنَّا أَنْزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ وَمَا أَدْراكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ تَنَزَّلُ الْمَلَيكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ اَمْرٍ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ یعنی ہم نے اس کتاب اور اس نبی کولیلۃ القدر میں اتار ہے اور تو جانتا ہے کہ لیلۃ القدر کیا چیز ہے لیلتہ القدر ہزار مہینہ سے بہتر ہے اس میں فرشتے اور روح القدس اپنے رب کے اذن سے اترتے ہیں۔اور وہ ہر یک امر میں سلامتی کا وقت ہوتا ہے یہاں تک کہ فجر ہو۔اب اگر چہ مسلمانوں کے ظاہری عقیدہ کے موافق لیلتہ القدر ایک متبرک رات کا نام ہے مگر جس حقیقت پر خدا تعالیٰ نے مجھ کو مطلع کیا ہے وہ یہ ہے کہ علاوہ ان معنوں کے جو مسلم قوم ہیں لیلتہ القدر وہ زمانہ بھی ہے جب دنیا میں ظلمت پھیل جاتی ہے اور ہر طرف تاریکی ہی تاریکی ہوتی ہے تب وہ تاریکی بالطبع تقاضا کرتی ہے کہ آسمان سے کوئی نور نازل ہو۔سو خدا تعالیٰ اس وقت اپنے نو رانی ملائکہ اور روح القدس کو زمین پر نازل کرتا ہے۔اسی طور کے نزول کے ساتھ جو فرشتوں کی شان کے ساتھ مناسب حال ہے تب روح القدس تو اس مجد داور مصلح سے تعلق پکڑتا ہے جو اجتہا اور اصطفا کی خلعت سے مشرف ہو کر دعوت حق کے لئے مامور ہوتا ہے اور فرشتے ان تمام لوگوں سے تعلق پکڑتے ہیں جو سعید اور رشید اور مستعد ہیں اور ان کو نیکی کی طرف کھینچتے ہیں اور نیک توفیقیں ان کے سامنے رکھتے ہیں تب دنیا میں سلامتی اور سعادت کی راہیں پھیلتی ہیں اور ایسا ہی ہوتا رہتا ہے جب تک دین اپنے اس کمال کو پہنچ جائے جو اس کے لئے مقدر کیا گیا ہے۔اب دیکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے اس سورہ مبارکہ میں صاف اور صریح لفظوں میں فرما دیا کہ جب کوئی مصلح خدا تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے تو ضرور دلوں کو حرکت دینے والے ملائکہ زمین پر نازل ہوتے ہیں تب ان کے نزول سے ایک حرکت اور تموج دلوں میں نیکی اور راہ حق کی طرف پیدا ہوجاتا ہے۔پس ایسا خیال کرنا کہ یہ حرکت اور یہ تموج بغیر ظہور صلح کے خود بخود پیدا ہو جاتا ہے۔خدا تعالی کی پاک کلام اور اس کے قدیم قانون قدرت کے مخالف ہے اور ایسے اقوال صرف ان لوگوں کے منہ سے نکلتے ہیں جو الہی اسرار سے بے خبر محض اور