تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 311 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 311

۳۱۱ سورة القدر تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام خدائے تعالیٰ نے میرے پر یہ نکتہ معارف قرآنیہ کا ظاہر کیا کہ انا انزَلْنَهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ کے صرف یہی معنے نہیں کہ ایک بابرکت رات ہے جس میں قرآن شریف اُترا بلکہ باوجود ان معنوں کے جو بجائے خود صحیح ہیں اس آیت کے بطن میں دوسرے معنے بھی ہیں جو رسالہ فتح اسلام میں درج کئے گئے ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۲۵۹) خدائے تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا ہے کہ پہلے معنے لیلتہ القدر کے جو علماء کرتے ہیں وہ بھی مسلّم اور بجا ہیں اور ساتھ اُن کے یہ بھی معنے ہیں۔اور ان دونوں میں کچھ منافات نہیں۔قرآن شریف ظہر بھی رکھتا اور بطن بھی اور صدہا معارف اس کے اندر پوشیدہ ہیں۔پس اگر اس عاجز نے تفہیم الہی سے لیلتہ القدر کے یہ معنے کئے تو کہاں سے سمجھا گیا کہ پہلے معنوں سے انکار کیا ہے کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ خیر القرون نہیں اللہ کہلاتا؟ کیا اس زمانہ کی عبادات ثواب میں بڑھ کر نہیں تھیں ؟ کیا اُس زمانہ میں نصرت دین کے لئے فرشتے نازل نہیں ہوتے تھے؟ کیا روح الامین نازل نہیں ہوتا تھا ؟ پس ظاہر ہے کہ لیلۃ القدر کے تمام آثار و انوار و برکات اُس زمانہ میں موجود تھے ایک ظلمت بھی موجود تھی جس کے دُور کرنے کے لئے یہ انوار وملائک اور روح الامین اور طرح طرح کی روشنی نازل ہو رہی تھی۔پھر اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مقدس زمانہ کا نام بھی الہام الہی سے لیلتہ القدر ظاہر کیا گیا تو اس سے کون سی قباحت لازم آ گئی ؟ جو شخص قرآن شریف کے ایک معنی کو مسلم رکھ کر ایک دوسرا لطیف نکتہ اس کا بیان کرتا ہے تو کیا اس کا محمد نام رکھنا چاہیئے ؟ اس خیال کے آدمی بلا شبہ قرآن شریف کے دشمن اور اس کے اعجاز کے منکر ہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۳۲۰،۳۱۹) زمانہ کے فساد کے وقت جب کوئی مصلح آتا ہے اس کے ظہور کے وقت پر آسمان سے ایک انتشار نورانیت ہوتا ہے۔یعنی اس کے اترنے کے ساتھ زمین پر ایک نور بھی اترتا ہے اور مستعد دلوں پر نازل ہوتا ہے تب دنیا خود بخود بشرط استعداد نیکی اور سعادت کے طریقوں کی طرف رغبت کرتی ہے اور ہر یک دل تحقیق اور تدقیق کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے اور نا معلوم اسباب سے طلب حق کے لئے ہر یک طبیعت مستعدہ میں ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے غرض ایک ایسی ہوا چلتی ہے جو مستعد دلوں کو آخرت کی طرف ہلا دیتی ہے اور سوئی ہوئی قوتوں کو جگا دیتی ہے اور زمانہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایک انقلاب عظیم کی طرف حرکت کر رہا ہے سو یہ علامتیں اس بات پر شاہد ہوتی ہیں کہ وہ مصلح دنیا میں پیدا ہو گیا پھر جس قدر آنے والا مصلح عظیم الشان ہو یہ غیبی