تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 310
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۳۱۰ سورة القدر ، وہ کتاب جو اس کو دی گئی ہے آسمان سے نازل ہوتی ہے اور فرشتے آسمان سے اترتے ہیں لیکن سب سے بڑی لیلتہ القدر وہ ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کی گئی ہے درحقیقت اس لیلۃ القدر کا دامن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے قیامت تک پھیلا ہوا ہے اور جو کچھ انسانوں میں دلی اور دماغی قومی کی جنبش آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے آج تک ہو رہی ہے وہ لیلتہ القدر کی تاثیریں ہیں صرف اتنا فرق ہے کہ سعیدوں کے عقلی قومی میں کامل اور مستقیم طور پر وہ جنبشیں ہوتیں ہیں اور اشقیا کے عقلی قوی ایک سمج اور غیر مستقیم طور سے جنبش میں آتے ہیں اور جس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی نائب دنیا میں پیدا ہوتا ہے تو یہ تحریکیں ایک بڑی تیزی سے اپنا کام کرتی ہیں بلکہ اُسی زمانہ سے کہ وہ نائب رحم مادر میں آوے پوشیدہ طور پر انسانی قومی کچھ کچھ جنبش شروع کرتے ہیں اور حسب استعداد اُن میں ایک حرکت پیدا ہو جاتی ہے اور اس نائب کو نیابت کے اختیارات ملنے کے وقت تو وہ جنبش نہایت تیز ہو جاتی ہے پس نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول کے وقت جو لیلتہ القدر مقرر کی گئی ہے وہ در حقیقت اس لیلتہ القدر کی ایک شاخ ہے یا یوں کہو کہ اس کا ظل ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملی ہے خدائے تعالیٰ نے اس لیلۃ القدر کی نہایت درجہ کی شان بلند کی ہے جیسا کہ اُس کے حق میں یہ آیت کریمہ ہے کہ فِيْهَا يُفْرَقُ كُلُّ اَمْرٍ حَكِيمٍ ( الدخان : ۵ ) یعنی اس لیلتہ القدر کے زمانہ میں جو قیامت تک مند ہے ہر یک حکمت اور معرفت کی باتیں دنیا میں شائع کر دی جائیں گی اور انواع اقسام کے علوم غریبه وفنون نادره وصناعات عجیبه صفحه عالم میں پھیلا دئے جائیں گے اور انسانی قولی میں موافق اُن کی مختلف استعدادوں اور مختلف قسم کے امکان بسطت علم اور عقل کے جو کچھ لیا قتیں مخفی ہیں یا جہاں تک وہ ترقی کر سکتے ہیں سب کچھ بمنصہ ظہور لایا جائے گا لیکن یہ سب کچھ ان دنوں میں پر زور تحریکوں سے ہوتا رہے گا کہ جب کوئی نائب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں پیدا ہو گا در حقیقت اسی آیت کو سورۃ الزلزال میں مفصل طور پر بیان کیا گیا ہے کیونکہ سورۃ الزلزال سے پہلے سورۃ القدر نازل کر کے یہ ظاہر فرمایا گیا ہے کہ سنت اللہ اسی طرح پر جاری ہے کہ خدائے تعالی کا کلام لیلۃ القدر میں ہی نازل ہوتا ہے اور اس کا نبی لیلۃ القدر میں ہی دنیا میں نزول فرماتا ہے اور لیلتہ القدر میں ہی وہ فرشتے اُترتے ہیں جن کے ذریعہ سے دُنیا میں نیکی کی طرف تحریکیں پیدا ہوتی ہیں اور وہ ضلالت کی پر ظلمت رات سے شروع کر کے طلوع صبح صداقت تک اس کام میں لگے رہتے ہیں کہ مستعد دلوں کو سچائی کی طرف کھینچتے رہیں۔(ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۱۵۵ تا ۱۶۰)