تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 301
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سورة العلق اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة العلق بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ كَلاَ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى اَنْ رَّاهُ اسْتَغْنى ہم نے جو کیمیا کو شرک قرار دیا تھا تو اس کا یہ مطلب تھا کہ خدا تعالیٰ نہیں چاہتا کہ انسان مستغنی ہو۔اسی لئے فرما یا ان الإِنسَانَ ليطفى آن رادُ اسْتَغفی۔وہ فرماتا ہے انسان سرکشی کرتا ہے جبکہ اپنے تئیں غنی دیکھتا ہے۔عبودیت کا الوہیت سے ایسا تعلق ہے کہ عبد اپنے مولی کا ذرہ ذرہ کے لئے محتاج ہے اور ایک دم خدا کے سوا نہیں گزار سکتا۔پس جو شخص ایسے اسباب تلاش کرتا ہے جن سے خدا کی طرف توجہ نہ رہے ( اور توجہ مبنی ہے احتیاج پر ) تو گویا شرک میں پڑتا ہے کیونکہ اپنا قبلہ مقصود ایک کے سوا دوسرا بھی بناتا ہے۔مومن تو وہ ہے جو ایسے امور کا نام تک نہ لے جن سے توحید میں رخنہ اندازی ہوتی ہے۔اس بات کو خوب سمجھ لینا چاہیے کہ بیمار اس وقت تک طبیب کے پاس رہتا ہے جب تک کہ بیمار رہے۔پس عبد بھی اسی وقت تک متوجہ رہے گا جب تک عبودیت کی حالت باقی رہے۔( بدر جلد ۶ نمبر ۲۲ مورخه ۳۰ رمئی ۱۹۰۷ ء صفحه ۳) ارَعَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى ( قضاء عمری کے متعلق فرمایا ) میرے نزدیک یہ فضول باتیں ہیں۔ان کی نسبت وہی جواب ٹھیک ہے جو کہ حضرت علی نے ایک شخص کو