تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 291
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۹۱ سورة الضحى فَحَدّت پر عمل کرے۔خدا تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کی تحدیث کرنی چاہیے اس سے خدا تعالیٰ کی محبت بڑھتی ہے اور اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کے لئے ایک جوش پیدا ہوتا ہے۔تحدیث کے یہی معنے نہیں ہیں کہ انسان صرف زبان سے ذکر کرتا رہے بلکہ جسم پر بھی اس کا اثر ہونا چاہیے۔مثلاً ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے تو فیق دی ہے کہ وہ عمدہ کپڑے پہن سکتا ہے لیکن وہ ہمیشہ میلے کچیلے کپڑے پہنتا ہے اس خیال سے کہ وہ واجب الرحم وہ سمجھا جاوے یا اس کی آسودہ حالی کا حال کسی پر ظاہر نہ ہو ایسا شخص گناہ کرتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے فضل اور کرم کو چھپانا چاہتا ہے اور نفاق سے کام لیتا ہے۔دھوکہ دیتا ہے اور مغالطہ میں ڈالنا چاہتا ہے یہ مومن کی شان سے بعید ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مذہب مشترک تھا۔آپ کو جو ملتا تھا پہن لیتے تھے۔اعراض نہ کرتے تھے۔جو کپڑا پیش کیا جاوے اسے قبول کر لیتے تھے لیکن آپ کے بعد بعض لوگوں نے اسی میں تو اضع دیکھی کہ رہبانیت کی جزو ملا دی بعض درویشوں کو دیکھا گیا کہ گوشت میں خاک ڈال کر کھاتے تھے۔ایک درویش کے پاس کوئی شخص گیا اس نے کہا کہ اس کو کھانا کھلا دو۔اس شخص نے اصرار کیا کہ میں تو آپ کے ساتھ ہی کھاؤں گا آخر جب وہ اس درویش کے ساتھ کھانے بیٹھا تو اس کے لئے نیم کے گولے طیار کر کے آگے رکھے گئے۔اس قسم کے امور بعض لوگ اختیار کرتے ہیں اور غرض یہ ہوتی ہے کہ لوگوں کو اپنے باکمال ہونے کا یقین دلائیں مگر اسلام ایسی باتوں کو کمال میں داخل نہیں کرتا۔اسلام کا کمال تو تقویٰ ہے جس سے ولایت ملتی ہے۔جس سے فرشتے کلام کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ بشارتیں دیتا ہے۔ہم اس قسم کی تعلیم نہیں دیتے کیونکہ اسلام کی تعلیم کے منشاء کے خلاف ہے۔قرآن شریف تو كُلُوا مِنَ الطَّيِّبت کی تعلیم دے اور یہ لوگ طیب عمدہ چیز میں خاک ڈال کر غیر طیب بنا دیں۔اس قسم کے مذاہب اسلام کے بہت عرصہ بعد پیدا ہوئے ہیں۔یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اضافہ کرتے ہیں ان کو اسلام سے اور قرآن کریم سے کوئی تعلق نہیں ہوتا یہ خود اپنی شریعت الگ قائم کرتے ہیں میں اس کو سخت حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔ہمارے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسوۂ حسنہ ہیں۔ہماری بھلائی اور خوبی یہی ہے کہ جہاں تک ممکن ہو آپ کے نقش قدم پر چلیں اور اس کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھا ئیں۔احکام جلدے نمبر ۱۳ مورخه ۱۰ را پریل ۱۹۰۳ ، صفحه ۲،۱) جہاں انسان واضح طور پر قرآن شریف یا سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اپنی کمزوری کی وجہ سے کوئی بات نہ پاسکے تو اس کو اجتہاد سے کام لینا چاہیے۔مثلاً شادیوں میں جو بھاجی دی جاتی ہے۔اگر اس کی