تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 283 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 283

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۸۳ سورة الشمس چند روز سلام نہ کرے تو اس کی نظر بگڑ جاتی ہے تو جو خدا سے قطع کرے پھر خدا اس کی پرواہ کیوں کرے گا اسی پر وہ فرماتا ہے کہ وہ ان کو ہلاک کر کے ان کی اولاد کی بھی پرواہ نہیں کرتا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو متقی صالح مر جاوے اس کی اولاد کی پرواہ کرتا ہے۔احکم جلد ۶ نمبر ۳ مورخه ۲۴ /اگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۷ ) دیکھو جب کوئی بادشاہ کے کسی امر کے متعلق سمجھا دے کہ تم اس سے رک جاؤ تمہارا بھلا ہوگا تو اگر وہ شخص رک جاوے تو بہتر ورنہ پھر اس کا عذاب کیسا سخت ہوتا ہے۔اسی طرح پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں سے خدا تعالیٰ لوگوں کو سمجھوتیاں دیتا ہے کہ باز آجاؤ موقع ہے ورنہ پچھتاؤ گے مگر جیسا وہ نہیں سمجھتے اور اس کی نافرمانی سے نہیں رکتے تو پھر اس کا عذاب ایسا ہوتا ہے۔لَا يَخَافُ عُقبها - الحکم جلدے نمبر ۱۲ مورخه ۳۱ مارچ ۱۹۰۳ء صفحه ۱۰) بعض لوگ گناہ کرتے ہیں اور پھر اس کی پرواہ نہیں کرتے گو یا گناہ کو ایک شیر میں شربت کی مثال خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے کوئی نقصان نہ ہو گا مگر یا درکھیں کہ جیسے خدا تعالی بڑا غفور اور رحیم ہے ویسے ہی وہ بڑا بے نیاز بھی ہے۔جب وہ غضب میں آتا ہے تو کسی کی پرواہ نہیں کرتا وہ فرماتا ہے وَلَا يَخَافُ عُقبها - یعنی کسی کی اولاد کی بھی اسے پرواہ نہیں ہوتی کہ اگر فلاں شخص ہلاک ہو گا تو اس کے یتیم بے کس بچے کیا کریں گے۔البدر جلد ۲ نمبر ۱۴ مورخه ۱/۲۴ پریل ۱۹۰۳ ء صفحه ۱۰۸) انسان کی خوش قسمتی ہے کہ قبل از نزول بلا وہ تبدیلی کر لے لیکن اگر کوئی تبدیلی نہیں کرتا اور اس کی نظر اسباب اور مکر و حیلہ پر ہے تو سوائے اس کے کہ وہ اپنے ساتھ گھر بھر کو تباہ کر دے اور کیا انجام بھوگ سکتا ہے کیونکہ مرد گھر کا کشتی بان ہوتا ہے اگر وہ ڈوبے گا تو کشتی بھی ساتھ ہی ڈوبے گی۔اسی لئے کہا ہے الرجال قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاء - (النساء : ۳۵) اسی کی رستگاری کے ساتھ اس کے اہل وعیال کی رستگاری ہے اور لا يَخَافُ عُقبها سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کو ان کے پسماندوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔اس وقت اس کی بے نیازی کا م کرتی ہے۔البدر جلد ۳ نمبر ۲۷ مورخہ ۱۶ / جولائی ۱۹۰۴ ء صفحه ۴) وہ آدمی جو احکام الہی کی پرواہ نہیں کرتا خدا بھی اس کی پرواہ نہیں کرتا جیسا کہ آیت کریمہ وَلَا يَخَافُ عقبها سے ظاہر ہے۔یعنی نافرمانوں پر جب وہ عذاب کرنے پر آتا ہے تو ایسی لا ابالی سے عذاب کرتا ہے کہ عذاب کی ہلاکت سے ان کے بال بچوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا کہ ان کا حال ان کے نافرمان والدین کے الحام جلد ۹ نمبر ۵ موخه ۱۰ فروری ۱۹۰۵ صفحه ۴) بعد کیا ہوگا۔