تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 279 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 279

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھا گیا۔۲۷۹ سورة الشمس کوئی اس پاک سے جو دل لگا وے کرے پاک آپ کو تب اس کو پاوے ( بدر جلد ۶ نمبر ۷ ۴ مورخه ۲۱ نومبر ۱۹۰۷ء صفحہ ۱۰) یا درکھو کہ خدا کا یہ ہرگز منشاء نہیں کہ تم دنیا کو بالکل ترک کر دو بلکہ اس کا جو منشاء ہے وہ یہ ہے کہ قد افلح من زكتها - تجارت کرو، زراعت کرو، ملازمت کرو اور حرفت کرو، جو چاہو کر و مگر نفس کو خدائی نافرمانی سے روکتے رہو اور ایسا تزکیہ کرو کہ یہ امور تمہیں خدا سے غافل نہ کر دیں۔پھر جو تمہاری دنیا ہے وہ بھی دین کے حکم میں آجاوے گی۔(احکم جلد ۱۲ نمبر ۴۹، ۵۰ مورخه ۲۶ و۳۰ راگست ۱۹۰۸ صفحه ۴) تزکیہ نفس بڑا مشکل مرحلہ ہے اور مدار نجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ رکھا اور تزکیہ نفس بجر فضلِ خدا میسر نہیں آسکتا۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۳ مورخه ۱۴ رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۴) جو شخص خدا کو خوش کرنا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ اس کی دنیا ٹھیک ہو جاوے۔خود پاک دل ہو جاوے۔نیک بن جاوے اور اس کی تمام مشکلات حل اور دکھ دور ہو جاویں اور اس کو ہر طرح کی کامیابی اور فتح و نصرت عطا ہو تو اس کے واسطے اللہ تعالیٰ نے ایک اصول بتایا ہے اور وہ یہ ہے کہ قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّهَا کامیاب ہوگیا، بامراد ہو گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کو پاک کر لیا۔تزکیہ نفس میں ہی تمام برکات اور فیوض اور کامیابیوں کا راز نہاں ہے۔فلاح صرف امور دینی ہی میں نہیں بلکہ دنیا و دین میں کامیابی ہوگی۔نفس کی ناپاکی سے بچنے والا انسان بھی نہیں ہوسکتا کہ وہ دنیا میں ذلیل ہو۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۴۱ مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۰۸ صفحه ۴) نجات پا گیا وہ شخص جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کر لیا اور خائب اور خاسر ہو گیا وہ شخص جو اس سے محروم رہا۔اس لئے اب تم لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ تزکیہ نفس کس کو کہا جاتا ہے۔سو یا د رکھو کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کے واسطے ہمہ تن تیار رہنا چاہیے اور جیسے زبان سے خدا تعالیٰ کو اس کی ذات اور صفات میں وحدہ لاشریک سمجھتا ہے ویسے ہی عملی طور پر اس کو دکھانا چاہیے اور اس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہیے اور اپنے بھائیوں سے کسی قسم کا بھی بغض، حسد اور کینہ نہیں رکھنا چاہیے اور ، اور دوسروں کی غیبت کرنے سے بالکل الگ ہو جانا چاہیے لیکن میں دیکھتا ہوں کہ یہ معاملہ تو ابھی دور ہے کہ تم لوگ خدا کے ساتھ ایسے از خود رفتہ اور محو ہو جاؤ کہ بس اس کے ہو جاؤ اور جیسے زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو