تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 278
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۸ سورة الشمس پہنچتا ہے۔یہ بالکل سچی اور پکی بات ہے کہ جب تک انسان قومی بشریہ کے برے طریق کو نہیں چھوڑتا اس وقت تک خدا نہیں ملتا دنیا کی گندگیوں سے نکلنا چاہتے ہو اور خدا تعالیٰ کو ملنا چاہتے ہو تو ان لذات کو ترک کرو ورنہ ہم خدا خوا ہی و ہم دنیائے دوں اس خیال است و محال است و جنوں الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۱ مورخه ۱۷ارجون ۱۹۰۶ صفحه ۳) نہایت امن کی راہ یہی ہے کہ انسان اپنی غرض کو صاف کرے اور خالصتا رو بخدا ہو۔اس کے ساتھ اپنے تعلقات کو صاف کرے اور بڑھائے اور وجہ اللہ کی طرف دوڑے۔وہی اس کا مقصود اور محبوب ہو اور تقویٰ پر قدم رکھ کر اعمال صالحہ بجالا وے پھر سنت اللہ اپنا کام آپ کرے گی۔اس کی نظر نتائج پر نہ ہو بلکہ نظر تو اسی ایک نقطہ پر ہو۔اس حد تک پہنچے کے لئے اگر یہ شرط ہو کہ وہاں پہنچ کر سب سے زیادہ سزا ملے گی تب بھی اسی کی طرف جاوے۔یعنی کوئی ثواب یا عذاب اس کی طرف جانے کا اصل مقصد نہ ہو محض خدا تعالیٰ ہی اصل مقصد ہو۔جب وفاداری اور اخلاص کے ساتھ اس کی طرف آئے گا اور اس کا قرب حاصل ہوگا تو یہ وہ کچھ دیکھے گا جو اس کے وہم و گماں میں بھی نہ گزرا ہوگا اور کشوف اور خواب تو کچھ چیز ہی نہ ہوں گے۔پس میں تو اس راہ پر چلانا چاہتا ہوں اور یہی اصل غرض ہے۔اسی کو قرآن شریف میں فلاح کہا ہے۔قَدْ أَفْلَحَ مَنْ ركتها - الحکم جلد ۱۰ نمبر ۴۲ مورخه ۱۰ار دسمبر ۱۹۰۶ صفحه ۴) قرآن شریف میں آیا ہے قد افلح من زكتا اس نے نجات پائی جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔لیکن تزکیہ نفس بھی ایک موت ہے۔جب تک کہ کل اخلاق رذیلہ کو ترک نہ کیا جاوے تزکیہ نفس کہاں حاصل ہو سکتا ہے۔ہر ایک شخص میں کسی نہ کسی شرکا مادہ ہوتا ہے وہ اس کا شیطان ہوتا ہے جب تک کہ اس کو قتل نہ کرے کام نہیں بن سکتا۔اخبار بدر جلد ۶ نمبر ۱۸ مورخه ۲ رمئی ۱۹۰۷ ء صفحه ۲) اللہ تعالیٰ نے ایک ہی راہ رکھا ہے جیسے فرمایا ہے قَد أَفْلَحَ مَنْ زَكها اور یہ اسی بات کی طرف اشارہ ہے کہ انسان خدا کی رضا کے ساتھ راضی ہو جاوے۔کوئی دوئی نہ رہے۔خدا کے ساتھ کسی اور کی ملونی نہ رہے اور کسی قسم کی دوری یا جدائی نہ رہے۔یہ تھوڑی سی بات نہیں۔یہی وہ مشکل گھائی ہے جو بڑے بڑے مصائب اور امتحانوں کے بعد طے ہوا کرتی ہے۔الحکام جلد نمبر ۳۶ مورخه ۱۰/اکتوبر ۱۹۰۷ صفحه ۱۱) آیت قرآنی قد أَفْلَحَ مَنْ زَكْتْهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دَشها كا ترجمہ اردو میں ایک دفعہ سوچتا تھا تو یہ شعر