تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 277
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۷۷ سورة الشمس بزدلی سے کچھ نہیں ہوتا اس راہ میں مردانہ قدم اُٹھانا چاہیے۔ہر قسم کی تکلیفوں کے برداشت کرنے کو طیار ہونا چاہیے خدا تعالیٰ کو مقدم کر لے اور گھبرائے نہیں۔پھر امید کی جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا فضل دستگیری کرے گا اور اطمینان عطا فرمائے گا۔ان باتوں کے لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان تزکیہ نفس کرے۔جیسا کہ فرمایا ب قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَنهَا - القام جلد 4 نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۰۵ صفحه ۹) ایک مسلمان کا کشف جس قدر صاف ہوگا اس قدر غیر مسلم کا ہرگز صاف نہ ہوگا کیونکہ خدا تعالیٰ ایک مسلم اور غیر مسلم میں تمیز رکھتا ہے اور فرماتا ہے قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكتها - البدر جلد ۴ نمبر ۸ مورخه ۱۳ / مارچ ۱۹۰۵ء صفحه ۲) فلاح نہیں ہوتی جب تک نفس کو پاک نہ کرے اور نفس تب ہی پاک ہوتا ہے جب اللہ تعالی کے احکام کی عزت اور ادب کرے اور ان راہوں سے بچے جو دوسرے کے آزار اور دکھ کا موجب ہوتی ہیں۔الحکم جلد ۹ نمبر ۳۳ مورخه ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ صفحه ۹) وہ روحانی کمالات جو اسلام سکھاتا ہے ان کے لئے ضروری ہے کہ اعمال میں پاکیزگی اور صدق اور وفاداری ہو بغیر اس کے وہ باتیں حاصل ہی نہیں ہو سکتی ہیں یہی وجہ ہے کہ سلب امراض والے میچ کے اچھے کئے ہوئے مر گئے لیکن قد افلح من زلتها کی تعلیم دینے والے کے زندہ کئے ہوئے آج تک بھی زندہ ہیں اور ان پر کبھی فنا آہی نہیں سکتی۔الحکم جلد ۹ نمبر ۱۹ مورخه ۳۱ رمئی ۱۹۰۵ صفحه ۹) یہ تو سیح ہے کہ دین سہل ہے مگر ہر نعمت مشقت کو چاہتی ہے۔بایں اسلام نے تو ایسی مشقت بھی نہیں رکھی۔ہندوؤں میں دیکھو کہ ان کے جوگیوں اور سنیاسیوں کو کیا کیا کرنا پڑتا ہے۔کہیں ان کی کمریں ماری جاتی ہیں۔کوئی ناخن بڑھاتا ہے۔ایسا ہی عیسائیوں میں رہبانیت تھی۔اسلام نے ان باتوں کو نہیں رکھا بلکہ اس نے یہ تعلیم دی قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكتها یعنی نجات پا گیا وہ شخص جس نے تزکیہ نفس کیا یعنی جس نے ہر قسم کی بدعت، فسق و فجور، نفسانی جذبات سے خدا تعالیٰ کے لئے الگ کر لیا اور ہر قسم کی نفسانی لذات کو چھوڑ کر خدا کی راہ میں تکالیف کو مقدم کر لیا۔ایسا شخص فی الحقیقت نجات یافتہ ہے جو کرا خدا تعالیٰ کو مقدم کرتا ہے اور دنیا اور اس کے تکلفات کو چھوڑتا ہے۔اور پھر فرما یا قَدْ خَابَ مَنْ دَشَهَا مٹی کے برابر ہو گیا وہ شخص جس نے نفس کو آلودہ کر لیا یعنی جو زمین کی طرف جھک گیا۔گویا یہ ایک ہی فقرہ قرآن کریم کی ساری تعلیمات کا خلاصہ ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کس طرح خدا تعالیٰ تک