تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 267
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۷ سورة الشمس انسان کا نفس بھی در حقیقت اسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تا وہ ناقتہ اللہ کا کام دیوے۔اس کے فنافی اللہ ہونے کی حالت میں خدائے تعالیٰ اپنی پاک تجلی کے ساتھ اس پر سوار ہو جیسے کوئی اونٹنی پر سوار ہوتا ہے۔سونفس پرست لوگوں کو جو حق سے منہ پھیر رہے ہیں تہدید اور انذار کے طور پر فرمایا کہ تم لوگ بھی قوم ثمود کی طرح ناقتہ اللہ کا سُفیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یاد الہی اور معارف الہی کا چشمہ ہے جس پر اس ناقہ کی زندگی موقوف ہے اُس پر بند کر رہے ہو اور نہ صرف بند بلکہ اس کے پیر کاٹنے کی فکر میں ہوتا وہ خدائے تعالیٰ کی راہوں پر چلنے سے بالکل رہ جائے سو اگر تم اپنی خیر مانگتے ہو تو وہ زندگی کا پانی اُس پر بند مت کر دو اور اپنی بے جا خواہشوں کے تیر و تبر سے اس کے پیر مت کاٹو اگر تم ایسا کرو گے اور وہ ناقہ جو خدائے تعالی کی سواری کے لئے تم کو دی گئی ہے مجروح ہو کر مر جائے گی تو تم بالکل سکتے اور خشک لکڑی کی طرح متصور ہو کر کاٹ دیئے جاؤ گے اور پھر آگ میں ڈالے جاؤ گے اور تمہارے مرنے کے بعد خدائے تعالیٰ تمہارے پس ماندوں پر ہرگز رحم نہیں کرے گا بلکہ تمہاری معصیت اور بدکاری کا وبال ان کے بھی آگے آئے گا اور نہ صرف تم اپنی شامت اعمال سے مرو گے بلکہ اپنے عیال و اطفال کو بھی اسی تباہی میں ڈالو گے۔ان آیات بینات سے صاف صاف ثابت ہو گیا کہ خداوند کریم نے انسان کو سب مخلوقات سے بہتر اور افضل بنایا ہے اور ملائک اور کواکب اور عناصر وغیرہ جو کچھ انسان میں اور خدائے تعالیٰ میں بطور وسائط کے دخیل ہو کر کام کر رہے ہیں وہ اُن کا درمیانی واسطہ ہونا ان کی افضلیت پر دلالت نہیں کرتا اور وہ اپنے درمیانی ہونے کی وجہ سے انسان کو کوئی عزت نہیں بخشتے بلکہ خود ان کو عزت حاصل ہوتی ہے کہ وہ ایسی شریف مخلوق کی خدمت میں لگائے گئے ہیں سو در حقیقت وہ تمام خادم ہیں نہ مخدوم۔توضیح مرام، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۷۷ تا ۸۵) سورج بحکمت کاملہ الہی سات سو تیس تعینات میں اپنے تئیں متشکل کر کے دنیا پر مختلف قسموں کی تاثیرات ڈالتا ہے اور ہر یک متشکل کی وجہ سے ایک خاص نام اُس کو حاصل ہے اور یکشنبه دوشنبہ سہ شنبہ وغیرہ در حقیقت باعتبار خاص خاص تعینات و لوازم و تاثیرات کے سورج کے ہی نام ہیں جب یہ لوازم خاصہ بولنے کے وقت ذہن میں ملحوظ نہ رکھے جائیں اور صرف مجرد اور اطلاقی حالت میں نام لیا جائے تو اس وقت سورج کہیں گے لیکن جب اسی سورج کے خاص خاص لوازم اور تاثیرات اور مقامات ذہن میں ملحوظ رکھ کر بولیں گے تو اس کو کبھی دن کہیں گے اور کبھی رات کبھی اس کا نام اتوار رکھیں گے اور کبھی پیر اور کبھی سانوں اور کبھی بھادوں کبھی