تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 266 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 266

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۶۶ سورة الشمس رہتے ہیں یعنی خدائے تعالی اس کے دلی نور کو جو تم کی طرح اس کے دل میں موجود ہے اپنے الہامات خاصہ سے کمال تک پہنچا دیتا ہے اور اس کے روشن مکاشفات کی آگ کو افروختہ کر دیتا ہے تب وہ اپنے چمکتے ہوئے نور کو دیکھ کر اور اس کے افاضہ اور استفاضہ کی خاصیت کو آزما کر پورے یقین سے سمجھ لیتا ہے کہ آفتاب اور ماہتاب کی نورانیت مجھ میں بھی موجود ہے اور آسمان کے وسیع اور بلند اور پر کواکب ہونے کے موافق میرے سینہ میں بھی انشراح صدر اور عالی ہمتی اور دل اور دماغ میں ذخیرہ روشن قوی کا موجود ہے جو ستاروں کی طرح چمک رہے ہیں تب اسے اس بات کے سمجھنے کے لئے اور کسی خارجی ثبوت کی کچھ بھی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اس کے اندر سے ہی ایک کامل ثبوت کا چشمہ ہر وقت جوش مارتا ہے اور اس کے پیاسے دل کو سیراب کرتا رہتا ہے اور اگر یہ سوال پیش ہو کہ سلوک کے طور پر کیوں کر ان نفسانی خواص کا مشاہدہ ہو سکے تو اس کے جواب میں اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكْهَا وَقَدْ خَابَ مَنْ دشها یعنی جس شخص نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور بکلی رذائل اور اخلاق ذمیمہ سے دست بردار ہو کر خدائے تعالیٰ کے حکموں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا وہ اس مراد کو پہنچے گا اور اپنا نفس اس کو عالم صغیر کی طرح کمالات متفرقہ کا مجمع نظر آئے گا لیکن جس شخص نے اپنے نفس کو پاک نہیں کیا بلکہ بے جا خواہشوں کے اندر گاڑ دیا وہ اس مطلب کے پانے سے نامرادر ہے گا ماحصل اس تقریر کا یہ ہے کہ بلاشبہ نفس انسان میں وہ متفرق کمالات موجود ہیں جو تمام عالم میں پائے جاتے ہیں اور ان پر یقین لانے کے لئے یہ ایک سیدھی راہ ہے کہ انسان حسب منشائے قانون الہی تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہو۔کیوں کہ تزکیہ نفس کی حالت میں نہ صرف علم الیقین بلکہ حق الیقین کے طور پر ان کمالات مخفیہ کی سچائی کھل جائے گی۔پھر بعد اس کے اللہ جل شانہ ایک مثال کے طور پر شمود کی قوم کا ذکر کر کے فرماتا ہے کہ انہوں نے باعث اپنی جبلی سرکشی کے اپنے وقت کے نبی کو جھٹلایا اور اس تکذیب کے لئے ایک بڑا بد بخت ان میں سے پیش قدم ہوا۔اس وقت کے رسول نے انہیں نصیحت کے طور پر کہا کہ ناقۃ اللہ یعنی خدائے تعالیٰ کی اونٹنی اور اُس کے پانی پینے کی جگہ کا تعرض مت کرو مگر انہوں نے نہ مانا اور اونٹنی کے پاؤں کاٹے۔سو اس جرم کی شامت سے اللہ تعالیٰ نے ان پر موت کی مار ڈالی اور انہیں خاک سے ملا دیا اور خدائے تعالیٰ نے اس بات کی کچھ بھی پرواہ نہ کی کہ ان کے مرنے کے بعد ان کی بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں اور بے کس عیال کا کیا حال ہو گا۔یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے نفس کو ناقہ اللہ سے مشابہت دینے کے لئے اس جگہ لکھی ہے۔مطلب یہ ہے کہ