تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 257
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۵۷ سورة البلد اَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة البلد بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ) مومن وہی ہیں جو ایک دوسرے کو صبر اور مرحمت کی نصیحت کرتے ہیں یعنی یہ کہتے ہیں کہ شدائد پر صبر کرو۔اور خدا کے بندوں پر شفقت کرو۔اس جگہ بھی مرحمت سے مراد شفقت ہے کیونکہ مرحمت کا لفظ زبان عرب میں شفقت کے معنوں پر مستعمل ہوتا ہے۔پس قرآنی تعلیم کا اصل مطلب یہ ہے کہ محبت جس کی حقیقت محبوب کے رنگ سے رنگین ہو جانا ہے بجز خدا تعالیٰ اور صلحاء اور کسی سے جائز نہیں بلکہ سخت حرام ہے۔( نور القرآن نمبر ۲ ، روحانی خزائن جلد ۹ جلد ۲ صفحه ۴۳۳، ۴۳۴) مومن وہ ہیں جو حق اور رحم کی وصیت کرتے ہیں۔(سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحہ ۳۶۹) قرآن تمہیں انجیل کی طرح فقط یہ نہیں کہتا کہ اپنے بھائی پر بے سبب غصہ مت ہو بلکہ وہ کہتا ہے کہ نہ صرف اپنے ہی غصہ کو تھام بلکہ تواصوا بالمرحمة پر عمل بھی کر اور دوسروں کو بھی کہتارہ کہ وہ ایسا کریں اور نہ صرف خود رحم کر بلکہ رحم کے لئے اپنے تمام بھائیوں کو وصیت بھی کر۔کشتی نوح ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۹) قرآن کریم کی یہ تعلیم ہر گز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو بلکہ وہ فرماتا ہے تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ کہ وہ صبر اور رحم سے نصیحت کرتے ہیں۔مرحمہ یہی ہے کہ