تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 246
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۶ سورة الفجر عذاب اور درد میں مبتلا کر دیتی ہے۔میں پھر کہتا ہوں کہ یہ بالکل سچی اور یقینی بات ہے کہ نفس مطمئنہ کے بدوں انسان نجات نہیں پاسکتا۔جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا ہے نفس امارہ کی حالت میں انسان شیطان کا غلام ہوتا ہے اور لوامہ میں اسے شیطان سے ایک مجاہدہ اور جنگ کرنا ہوتا ہے۔کبھی وہ غالب آجاتا ہے اور کبھی شیطان۔مگر مطمعنہ کی حالت ایک امن اور آرام کی حالت ہوتی ہے کہ وہ آرام سے بیٹھ جاتا ہے اس لئے اس آیت میں کہ پایتها النَّفْسُ الْمُطْمِينَةُ یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس آخری حالت میں کس قدر استراحت ہوتی ہے چنانچہ اس کا ترجمہ یہ ہے کہ اے نفس مطمئنہ اللہ کی طرف چلا آ۔ظاہر کے لحاظ سے تو یہ مطلب ہے کہ جان کندن کی حالت میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آتی ہے کہ اے مطمئن نفس اپنے رب کی طرف چلا آ۔وہ تجھ سے خوش ہے اور تو اس سے راضی۔چونکہ قرآن کے لئے ظاہر اور بطن دونوں ہیں اس لئے بطن کے لحاظ سے یہ مطلب ہے کہ اے اطمینان پر پہنچے ہوئے نفس اپنے رب کی طرف چلا آ۔یعنی تیری طبعاً یہ حالت ہو چکی ہے کہ تو اطمینان اور سکینت کے مرتبہ پر پہنچ گیا ہے اور تجھ میں اور اللہ تعالیٰ میں کوئی بعد نہیں ہے۔لوامہ کی حالت میں تو تکلیف ہوتی ہے مگر مطمعنہ کی حالت میں ایسا ہوتا ہے کہ جیسے پانی اوپر سے گرتا ہے اسی طرح پر خدائے تعالیٰ کی محبت انسان کے رگ وریشہ میں سرایت کر جاتی ہے اور وہ خدا ہی کی محبت سے جیتا ہے غیر اللہ کی محبت جو اس کے لئے ایک جلانے اور جہنم کی پیدا کرنے والی ہوتی ہے جل جاتی ہے اور اس کی جگہ ایک روشنی اور نور بھر دیا جاتا ہے۔اس کی رضا اللہ تعالیٰ کی رضا اور اللہ تعالیٰ کی رضا اس کا منشا ہو جاتا ہے۔خدائے تعالیٰ کی محبت ایسی حالت میں اس کے لئے بطور جان ہوتی ہے۔جس طرح زندگی کے لئے لوازم زندگی ضروری ہیں اس کی زندگی کے لئے خدا اور صرف خدا ہی کی ضرورت ہوتی ہے۔دوسرے لفظوں میں اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا تعالی ہی اس کی سچی خوشی اور پوری راحت ہوتا ہے۔نفس مطمعنہ کی یہ نشانی ہے کہ کسی خارجی تحریک کے بدوں ہی وہ ایسی صورت پکڑ جاتا ہے کہ خدا کے بدوں رہ نہیں سکتا اور یہی انسانی ہستی کا مدعا ہے اور ایسا ہی ہونا چاہیے۔فارغ انسان شکار ، شطرنج، گنجفہ وغیرہ اشغال اپنے لئے پیدا کر لیتے ہیں۔مگر مطمئنہ جب کہ ناجائز اور عارضی اور بسا اوقات رنج اور کرب پیدا کرنے والے اشغال سے الگ ہو گیا۔اب الگ ہو کر منقطع عالم اسے کیوں یاد آوے۔اس لئے خدا ہی سے محبت ہو جاتی ہے۔یہ امر بھی دل سے محو نہیں ہونا چاہیے کہ محبت دو قسم کی ہوتی ہے ایک ذاتی محبت ہوتی ہے اور ایک محبت اغراض سے وابستہ ہوتی ہے۔یا یہ کہو