تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 245
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۵ سورة الفجر ب يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَينَةُ ارْجِعِي إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيّة يعنی اے وہ نفس جو اطمینان یافتہ ہے اور پھر یہ اطمینان خدا کے ساتھ پایا ہے۔بعض لوگ حکومت سے بظاہر اطمینان اور سیری حاصل کرتے ، بعض کی تسکین اور سیری کا موجب ان کا مال اور عزت ہو جاتی ہے اور بعض اپنی خوبصورت اور ہوشیار اولا د و احفاد کو دیکھ دیکھ کر بظاہر مطمئن کہلاتے ہیں مگر یہ لذت اور انواع و اقسام کی لذات دنیا انسان کو سچا اطمینان اور سچی تسلی نہیں دے سکتیں بلکہ ایک قسم کی ناپاک حرص کو پیدا کر کے طلب اور پیاس کو پیدا کرتی ہیں۔استسقاء کے مریض کی طرح ان کی پیاس نہیں بجھتی یہاں تک کہ ان کو ہلاک کر دیتی ہے مگر یہاں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے وہ نفس جس نے اپنا اطمینان خدائے تعالیٰ میں حاصل کیا ہے یہ درجہ بندے کے لئے ممکن ہے۔اس وقت اس کی خوشحالی با وجود مال منال کے دنیاوی حشمت اور جاہ وجلال کے ہوتے ہوئے بھی خدا ہی میں ہوتی ہے۔یہ زر و جواہر۔یہ دنیا اور اس کے دھندے اس کی سچی راحت کا موجب نہیں ہوتے۔پس جب تک انسان خدائے تعالیٰ ہی میں راحت اور اطمینان نہیں پاتا وہ نجات نہیں پاسکتا کیونکہ نجات اطمینان ہی کا ایک مترادف لفظ ہے۔میں نے بعض آدمیوں کو دیکھا اور اکثروں کے حالات پڑھے ہیں جو دنیا میں مال و دولت اور دنیا کی جھوٹی لذتیں اور ہر ایک قسم کی نعمتیں اولا د احفادر کھتے تھے جب مرنے لگے اور ان کو اس دنیا کے چھوڑ جانے اور ساتھ ہی ان اشیاء سے الگ ہونے اور دوسرے عالم میں جانے کا علم ہوا تو ان پر حسرتوں اور بے جا آرزوؤں کی آگ بھڑ کی اور سرد آہیں مارنے لگے۔بس یہ بھی ایک قسم کا جہنم ہے جو انسان کے دل کو راحت اور قرار نہیں دے سکتا بلکہ اس کو گھبراہٹ اور بیقراری کے عالم میں ڈال دیتا ہے اس لیے یہ امر بھی میرے دوستوں کی نظر سے پوشیدہ نہیں رہنا چاہیے کہ اکثر اوقات انسان اہل وعیال اور اموال کی محبت ہاں ناجائز اور بے جا محبت میں ایسا محو ہو جاتا ہے اور اکثر اوقات اسی محبت کے جوش اور نشہ میں ایسے ناجائز کام کر گزرتا ہے جو اس میں اور خدائے تعالیٰ میں ایک حجاب پیدا کر دیتے ہیں اور اس کے لئے ایک دوزخ تیار کر دیتے ہیں۔اس کو اس بات کا علم نہیں ہوتا۔جب وہ ان سب سے یکا یک علیحدہ کیا جاتا ہے اس گھڑی کی اسے خبر نہیں ہوتی۔تب وہ ایک سخت بے چینی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔یہ بات بڑی آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہے کہ کسی چیز سے جب محبت ہو تو اس سے جدائی اور علیحدگی پر ایک رنج اور دردناک غم پیدا ہو جاتا ہے۔یہ مسئلہ اب منقولی ہی نہیں بلکہ معقولی رنگ رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نارُ اللَّهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الأفيدو پس یہ وہی غیر اللہ کی محبت کی آگ ہے جو انسانی دل کو جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور ایک حیرت ناک