تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 240
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۴۰ سورة الفجر اس کی روح نشو و نما پاتی ہے اور جس پر اس کی روحانی زندگی کا بڑا بھاری مدار ہے اور اس کے نتیجہ کا حصول کسی دوسرے جہان پر موقوف نہیں ہے اسی مقام پر یہ بات حاصل ہوتی ہے کہ وہ ساری ملامتیں جو نفس لوامہ انسان کا اس کی ناپاک زندگی پر کرتا ہے اور پھر بھی نیک خواہشوں کو اچھی طرح ابھار نہیں سکتا اور بری خواہشوں سے حقیقی نفرت نہیں دلا سکتا اور نہ نیکی پر ٹھہرنے کی پوری قوت بخش سکتا ہے اس پاک تحریک سے بدل جاتی ہے جو نفسِ مطمئنہ کے نشو نما کا آغاز ہوتی ہے اور اس درجہ پر پہنچ کر وقت آجاتا ہے کہ انسان پوری فلاح حاصل کرے اور اب تمام نفسانی جذبات خود بخود افسردہ ہونے لگتے ہیں اور روح پر ایک ایسی طاقت افزا ہوا چلنے لگتی ہے جس سے انسان پہلی کمزوریوں کو ندامت کی نظر سے دیکھتا ہے۔اس وقت انسانی سرشت پر ایک بھاری انقلاب آتا ہے اور عادات میں ایک تبدل عظیم پیدا ہوتا ہے اور انسان اپنی پہلی حالتوں سے بہت ہی دور جا پڑتا ہے، دھویا جاتا ہے اور صاف کیا جاتا ہے اور خدا نیکی کی محبت کو اپنے ہاتھ سے اس کے دل میں لکھ دیتا ہے اور بدی کا گندا اپنے ہاتھ سے اس کے دل سے باہر پھینک دیتا ہے۔سچائی کی فوج سب کی سب دل کے شہرستان میں آجاتی ہے اور فطرت کے تمام برجوں پر راست بازی کا قبضہ ہو جاتا ہے اور حق کی فتح ہوتی ہے اور باطل بھاگ جاتا ہے اور اپنے ہتھیار پھینک دیتا ہے۔اس شخص کے دل پر خدا کا ہاتھ ہوتا ہے اور ہر ایک قدم خدا کے زیر سایہ چلتا ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۷۹٬۳۷۸) اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔وہ تجھ سے راضی اور تو اس پر راضی۔پھر میرے بندوں میں داخل ہو اور میری بہشت میں اندر آجا۔(براہین احمدیہ چہار حصص ، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۶۲۳ حاشیه در حاشیه نمبر ۳) جو لوگ موت کے ذریعہ سے اس کی طرف اٹھائے جاتے ہیں۔اس قسم کے لفظ ان کے حق میں بولے جاتے ہیں کہ وہ خدا تعالی کی طرف اٹھائے گئے یا خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرگئے جیسا کہ اس آیت میں بھی ب يَايَتُهَا النَّفْسُ الْمُطْبِينَةُ ارْجِعِى إِلى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عَبْدِي وَادْخُلِي جَنَّتِي اور جیسا کہ اس آیت میں اشارہ ہے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَجِعُونَ۔(البقرة : ۱۵۷) الحق مباحثہ دہلی ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۱۶۸) چونکہ گناہ کی خشکی بے تعلقی سے پیدا ہوتی ہے اس لئے اس خشکی کو دور کرنے کے لئے سیدھا علاج مستحکم تعلق ہے جس پر قانونِ قدرت گواہی دیتا ہے۔اسی کی طرف اللہ جل شانہ اشارہ کر کے فرماتا ہے یایھا