تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 239
تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام ۲۳۹ سورة الفجر فَإِنَّ الرُّجُوعَ إِلَى اللهِ رَاضِيَةً مَرْضِيَّةٌ کی شکل میں اللہ تعالی کی طرف رجوع اور رفع الی اللہ والرَّفْعُ إِلَى اللهِ أَمْرٌ وَاحِدٌ، وَقَدْ جَرَتْ دونوں ایک ہی امر ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ سے یہ سنت عَادَةُ اللهِ تَعَالَى أَنَّهُ يَرْفَعُ إِلَيْهِ عِبَادَهُ جاری ہے کہ وہ اپنے صالح بندوں کے درجات ان کی الصَّالِحِينَ بَعْدَ مَوْتِهِمْ، وَيُؤْويهم في موت کے بعد بلند کرتا ہے اور ان کے مراتب کے مطابق آسمان میں انہیں مقام عطا فرماتا ہے۔(ترجمه از مرتب) السَّمَاوَاتِ بِحَسْبِ مَرَاتِبِهِمْ ، (حمامة البشری ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۲۲۱) اے نفس آرام یافتہ جو خدا سے آرام پا گیا اپنے خدا کی طرف واپس چلا آ۔تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔پس میرے بندوں میں مل جا اور میرے بہشت کے اندر آجا۔یہ وہ مرتبہ ہے جس میں نفس تمام کمزوریوں سے نجات پا کر روحانی قوتوں سے بھر جاتا ہے اور خدائے تعالیٰ سے ایسا پیوند کر لیتا ہے کہ بغیر اس کے جی بھی نہیں سکتا اور جس طرح پانی اوپر سے نیچے کی طرف بہتا ہے اور بسبب اپنی کثرت اور نیز روکوں کے دور ہونے سے بڑے زور سے چلتا ہے اسی طرح وہ خدا کی طرف بہتا چلا جاتا ہے۔اسی کی طرف اشارہ ہے جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے وہ نفس جو خدا سے آرام پا گیا اس کی طرف واپس چلا آ۔پس وہ اسی زندگی میں نہ موت کے بعد ایک عظیم الشان تبدیلی پیدا کرتا ہے اور اسی دنیا میں نہ دوسری جگہ ایک بہشت اس کو ملتا ہے اور جیسا کہ اس آیت میں لکھا ہے کہ اپنے رب کی طرف یعنی پرورش کرنے والے کی طرف واپس آ۔ایسا ہی اس وقت یہ خدا سے پرورش پاتا اور خدا کی محبت اس کی غذا ہوتی ہے اور اسی زندگی بخش چشمہ سے پانی پیتا ہے اس لئے موت سے نجات پاتا ہے۔(اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۱۸) اے نفس خدا کے ساتھ آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔وہ تجھ سے راضی اور تو اس سے راضی۔پس میرے بندوں میں داخل ہو جا اور میری بہشت کے اندر آجا۔۔۔۔یا درکھنا چاہیے کہ اعلیٰ درجہ کی روحانی حالت انسان کی اس دنیوی زندگی میں یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ آرام پا جائے اور تمام اطمینان اور سرور اور لذت اس کی خدا میں ہی ہو جائے۔یہی وہ حالت ہے جس کو دوسرے لفظوں میں بہشتی زندگی کہا جاتا ہے۔اس حالت میں انسان اپنے کامل صدق اور صفا اور وفا کے بدلہ میں ایک نقد بہشت پالیتا ہے اور دوسرے لوگوں کی بہشت موعود پر نظر ہوتی ہے اور یہ بہشت موجود میں داخل ہوتا ہے اسی درجہ پر پہنچ کر انسان سمجھتا ہے کہ وہ عبادت جس کا بوجھ اس کے سر پر ڈالا گیا ہے درحقیقت وہی ایک ایسی غذا ہے جس سے