تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 220 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 220

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۲۰ سورة الطارق افعال کی قسم کھاتا ہے نہ کسی غیر کی۔اور اس کے افعال اس کے غیر نہیں ہیں مثلاً اس کا آسمان یا ستارہ کی قسم کھانا اس قصد سے نہیں ہے کہ وہ کسی غیر کی قسم ہے بلکہ اس منشاء سے ہے کہ جو کچھ اس کے ہاتھوں کی صنعت اور حکمت آسمان اور ستاروں میں موجود ہے اس کی شہادت بعض اپنے افعال مخفیہ کے سمجھانے کے لئے پیش کرے۔غرض خدا تعالیٰ کی قسمیں اپنے اندر لامحدود اسرار معرفت کے رکھتی ہیں جن کو اہلِ بصیرت ہی دیکھ سکتے ہیں۔پس خدا تعالیٰ کی قسم کے لباس میں اپنے قانونِ قدرت کے بدیہات کی شہادت اپنی شریعت کے بعض دقائق حل کرنے کے لئے پیش کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی فعلی کتاب ( قانونِ قدرت ) اس کی قولی کتاب ( قرآن شریف ) پر شاہد ہو جاوے اور اس کے قول اور فعل میں باہم مطابقت ہو کر طالب صادق کے لئے مزید معرفت اور سکونت اور یقین کا موجب ہو اور یہ طریق قرآن شریف میں عام ہے۔مثلاً خدا تعالیٰ بر ہموؤں اور الہام کے منکروں پر یوں اتمام حجت کرتا ہے۔وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجع قسم ہے بادلوں کی جن سے مینہ برستا ہے۔رجع بارش کو بھی کہتے ہیں۔بارش کا بھی ایک مستقل نظام ہے۔جیسا نظام شمسی ہے۔رات اور دن کا ، اور کسوف خسوف کا بجائے خود ایک ایک نظام ہے۔مرض کا بھی ایک نظام ہوتا ہے طبیب اس نظام کے موافق کہہ سکتا ہے کہ فلاں دن بحران ہوگا۔غرض یہ نظام ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا قانونِ قدرت اپنے اندر ایک ترتیب اور کامل نظام رکھتا ہے اور کوئی فعل اس کا ایسا نہیں ہے جو نظام اور ترتیب سے باہر ہو۔اللہ تعالیٰ جیسے یہ چاہتا ہے کہ لوگ اس سے ڈریں ویسے ہی یہ بھی چاہتا ہے کہ لوگوں میں علوم کی روشنی پیدا ہو دے اور اس سے وہ معرفت کی منزلوں کو طے کر جاویں کیونکہ علوم حقہ سے واقفیت جہاں ایک طرف سچی خشیت پیدا کرتی ہے وہاں دوسری طرف ان علوم سے خدا پرستی پیدا ہوتی ہے بعض بد قسمت ایسے بھی ہیں جو علوم میں منہمک ہو کر قضاء وقدر سے دور جا پڑتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے وجود پر ہی شکوک پیدا کر بیٹھتے ہیں اور بعض ایسے ہیں جو قضا و قدر کے قائل ہو کر علوم ہی سے دستبردار ہو جاتے ہیں۔مگر قرآن شریف نے دونوں تعلیمیں دی ہیں اور کامل طور پر دی ہیں۔قرآن شریف علوم حقہ سے اس لئے واقف کرنا چاہتا ہے اور اس لئے ادھر انسان کو متوجہ کرتا ہے کہ اس سے خشیت الہی پیدا ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ کی معرفت میں جوں جوں ترقی ہوتی ہے اس قدر خدا تعالیٰ کی عظمت اور اس سے محبت پیدا ہوتی جاتی ہے اور انسان کو قضا و قدر کے نیچے رہنے کی اس لئے تعلیم دیتا ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر توکل اور بھروسہ کی صفت پیدا ہو اور وہ راضی بہ رضا ر ہنے