تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 219
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۹ سورة الطارق ہی فخر ہے کہ ہر طبقہ اپنی استعداد اور درجہ کے موافق فیض پاتا ہے۔الغرض یہ جو قرآن شریف کی قسم پر اعتراض کیا جاتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ قسم ایک ایسی شے ہے جس کو ایک شاہد کے مفقود ہونے کے بجائے دوسرا شاہد قرار دیا جاتا ہے۔قانونا ، شرعاً، عرفایہ عام مسلم بات ہے کہ جب گواہ مفقود ہو اور موجود نہ ہو تو صرف قسم پر اکتفا کی جاتی ہے اور وہ قسم گواہی کے قائم مقام ہوتی ہے اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کی سنت قرآن کریم میں اس طرح پر جاری ہے کہ نظریات کو ثابت کرنے واسطے بدیہیات کو بطور شاہد پیش کرتا ہے تا کہ نظری امور ثابت ہوں۔تو یا درکھنا چاہیے کہ قرآن شریف میں یہ طرز اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے کہ نظری امور کے اثبات کے لئے امور بدیہی کو بطور شواہد پیش کرتا ہے اور یہ پیش کرنا قسموں کے رنگ میں ہے۔اس بات کو بھی ہرگز بھولنا نہ چاہیے کہ اللہ جل شانہ کی قسموں کو انسانی قسموں پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے اللہ تعالیٰ نے جو انسان کو غیر اللہ کی قسم کھانے سے منع کیا تو اس کا سبب یہ ہے کہ انسان جب قسم کھاتا ہے تو اس کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ جس چیز کی قسم کھائی ہے اس کو ایک ایسے گواہ رویت کا مقام ٹھہر اوے کہ جو اپنے ذاتی علم سے اس کے بیان کی تصدیق یا تکذیب کر سکتا ہے کیونکہ اگر سوچ کر دیکھا جاوے تو قسم کا اصل مفہوم جیسا کہ ہم نے ابھی بیان کیا تھا شہادت ہی ہوتا ہے۔جب انسان معمولی شاہدوں کے پیش کرنے سے عاجز آ جاتا ہے تو پھر قسم کا محتاج ہوتا ہے تا اس سے وہ فائدہ اٹھا دے جو ایک شاہد رویت کی شہادت سے اٹھانا چاہتا ہے لیکن ایسا تجویز کرنا یا اعتقاد رکھنا کہ بجز خدا تعالیٰ کے کوئی اور بھی حاضر ناظر ہے اور تصدیق یا تکذیب یا سزا دہی یا کسی اور امر پر قادر ہے صریح کلمہ کفر ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام کتابوں میں انسان کو یہی ہدایت فرمائی ہے کہ غیر اللہ کی ہرگز قسم نہ کھاوے۔اب اس بیان سے صاف معلوم ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ کا قسم کھانا کوئی اور رنگ اور شان رکھتا ہے اور غرض اس سے یہی ہے کہ تا صحیفہ قدرت کے بدیہات کو شریعت کے اسرار دقیقہ کے حل و انکشاف کے لئے بطور شاہد پیش کرے اور چونکہ اس مدعا کو قسم سے ایک مناسبت تھی اور وہ یہ کہ جیسا ایک قسم کھانے والا جب مثلاً خدا تعالیٰ کی قسم کھاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے اس واقعہ پر گواہ ہے۔اسی طرح اور ٹھیک اسی رنگ میں اللہ تعالیٰ کے بعض ظاہر در ظاہر افعال نہاں در نہاں اسرار اور افعال پر بطور گواہ ہیں اس لئے اس نے قسم کے رنگ میں اپنے افعال بدیہیہ کو اپنے افعال نظریہ کے ثبوت میں جابجا قرآن شریف میں پیش کیا اور یہ کہنا سراسر نادانی اور جہالت ہے کہ اللہ تعالی نے غیر اللہ کی قسم کھائی کیونکہ اللہ تعالی در حقیقت اپنے