تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 218
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۸ سورة الطارق ثابت ہے جیسا کہ جسمانی نظام میں مینہ کی ضرورت ثابت ہے۔اگر مینہ نہ ہو تو آخر کا ر کنویں بھی خشک ہو جاتے ہیں اور دریا بھی اور پھر نہ پینے کے لئے پانی رہتا ہے اور نہ کھانے کے لئے اناج۔کیونکہ ہر ایک برکت زمین کی آسمان سے ہی نازل ہوتی ہے۔اس دلیل سے خدا نے ثابت کیا ہے کہ جیسا کہ پانی اور اناج کی ہمیشہ ضرورت ہے ایسا ہی خدا کی کلام اور اس کے تسلی دینے والے معجزات کی ہمیشہ ضرورت ہے۔کیونکہ محض گزشتہ قصوں سے تسلی نہیں ہو سکتی۔پس آریہ صاحبوں کو سمجھنا چاہیے کہ محض دید کے ورق چاٹنے سے نہ روحانی پیاس دور ہوسکتی ہے اور نہ وہ تسلی مل سکتی ہے جو خدا کے تازہ بتازہ معجزات سے ملتی ہے اور آیت ممدوحہ بالا میں جو خدا نے قسم کھائی پس جانا چاہیئے کہ خدا کی قسمیں انسان کی قسموں کی طرح نہیں ہیں بلکہ عادت اللہ اس طرح واقعہ ہوئی ہے کہ وہ قرآن شریف میں قسم کھا کر جسمانی نظام کو روحانی نظام کی تصدیق میں پیش کرتا ہے۔اصل بات یہ ہے کہ قسم شہادت کی قائم مقام وضع کی گئی ہے۔پس اس جگہ خدا کی کلام میں جسمانی امور کی قسم کھانے سے اشارہ یہ ہے کہ جو قسم کے بعد روحانی امور بیان کئے گئے ہیں جسمانی امور ان کی سچائی کے گواہ ہیں۔پس جس جگہ تم قرآن شریف میں اس طور کی قسمیں پاؤ گے ہر ایک جگہ ان قسموں سے یہی مراد ہے کہ خدا تعالیٰ اول جسمانی امور پیش کر کے ان امور کو روحانی امور کے لئے جو بعد میں لکھتا ہے بطور گواہ کے پیش کرتا ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۱۰۲) قرآن شریف کی قسموں پر جو اعتراض کیا جاتا ہے وہ بھی اسی قسم کا ہے۔بڑے غور اور فکر کے بعد یہ راز ہم پر کھلا ہے کہ قرآن شریف کے جس جس مقام پر کوتاہ اندیشوں نے اعتراض کئے ہیں اسی مقام پر اعلیٰ درجہ کی صداقتوں اور معارف کا ایک ذخیرہ موجود ہے جس پر ان کو اس وجہ سے اطلاع نہیں ملی کہ وہ حق کے ساتھ عداوت رکھتے ہیں اور قرآن شریف کو محض اس لئے پڑھتے ہیں کہ اس پر نکتہ چینی اور اعتراض کریں۔یادرکھو قرآن شریف کے دو حصے ہیں بلکہ تین۔ایک تو وہ حصہ ہے جس کو ادنی درجہ کے لوگ بھی جوامی ہوتے ہیں سمجھ سکتے ہیں اور دوسرا وہ حصہ ہے جو اوسط درجہ کے لوگوں پر کھلتا ہے۔اگر چہ وہ پورے طور پر امی نہیں ہوتے لیکن بہت بڑی استعداد علوم کی بھی نہیں رکھتے۔اور تیسر ا حصہ ان لوگوں کے لئے ہے جو اعلیٰ درجہ کے علوم سے بہرہ ور ہیں اور فلاسفر کہلاتے ہیں۔یہ قرآن شریف ہی کا خاصہ ہے کہ وہ تینوں قسم کے آدمیوں کو یکساں تعلیم دیتا ہے۔ایک ہی بات ہے جو امی اور اوسط درجہ کے آدمی اور اعلیٰ درجہ کے فلاسفر کو تعلیم دی جاتی ہے۔قرآن شریف کا