تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 217
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۷ سورة الطارق اس کے سمجھنے کے لئے اس زمانہ پر ایک نظر ڈالنا کافی ہے جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے پہلے اپنا رنگ تمام دنیا میں دکھلا رہا تھا۔چونکہ اس وقت حضرت مسیح کے زمانہ کو چھ سو برس گزر گئے تھے اور اس عرصہ میں کوئی الہام یافتہ پیدا نہیں ہوا تھا اس لئے تمام دنیا نے اپنی حالت کو خراب کر دیا تھا۔ہر ایک ملک کی تاریخیں پکار پکار کر کہتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں مگر آپ کے ظہور سے پہلے تمام دنیا میں خیالات فاسدہ پھیل گئے تھے۔ایسا کیوں ہوا تھا اور اس کا کیا سبب تھا ؟ یہی تو تھا کہ الہام کا سلسلہ مدتوں تک بند ہو گیا تھا۔آسمانی سلطنت صرف عقل کے ہاتھ میں تھی۔پس اس ناقص عقل نے کن کن خرابیوں میں لوگوں کو ڈالا، کیا اس سے کوئی نا واقف بھی ہے۔دیکھو الہام کا پانی جب مدت تک نہ برسا تو تمام عقلوں کا پانی کیسا خشک ہو گیا۔سوان قسموں میں یہی قانون قدرت اللہ تعالی پیش کرتا ہے اور فرماتا ہے کہ تم غور کر کے دیکھو کہ کیا خدا کا یہ محکم اور دائمی قانون قدرت نہیں کہ زمین کی تمام سرسبزی کا مدار آسمان کا پانی ہے۔سو اس پوشیدہ قانون قدرت کے لئے جو الہام الہی کا سلسلہ ہے۔یہ کھلا کھلا قانون قدرت بطور گواہ کے ہے۔سواس گواہ سے فائدہ اٹھاؤ اور صرف عقل کو اپنا رہبر مت بناؤ کہ وہ ایسا پانی نہیں جو آسمانی پانی کے سوا موجودرہ سکے۔جس طرح آسمانی پانی کا یہ خاصہ ہے کہ خواہ کسی کنویں میں اس کا پانی پڑے یا نہ پڑے وہ اپنی طبعی خاصیت سے تمام کنوؤں کے پانی کو اوپر چڑھا دیتا ہے۔ایسا ہی جب خدا کا ایک الہام یافتہ دنیا میں ظہور فرماتا ہے خواہ کوئی عقلمند اس کی پیروی کرے یا نہ کرے۔مگر اس الہام یافتہ کے زمانہ میں خود عقلوں میں ایسی روشنی اور صفائی آجاتی ہے کہ پہلے اس سے موجود نہ تھی۔لوگ خواہ نخواہ حق کی تلاش کرنا شروع کر دیتے ہیں اور غیب سے ایک حرکت ان کی قوت متفکرہ میں پیدا ہو جاتی ہے۔سو یہ تمام عقلی ترقی اور دلی جوش اس الہام یافتہ کے قدم مبارک سے پیدا ہو جاتا ہے اور بالخاصیت زمین کے پانیوں کو اوپر اٹھاتا ہے جب تم دیکھو کہ مذاہب کی جستجو میں ہر ایک شخص کھڑا ہو گیا ہے اور زمینی پانی کو کچھ ابال آیا ہے تو اٹھو اور خبر دار ہو جاؤ اور یقینا سمجھو کہ آسمان سے زور کا مینہ برسا ہے اور کسی دل پر الہامی بارش ہو گئی ہے۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۴۲۸ تا ۴۳۰) قسم ہے آسمان کی جس سے مینہ نازل ہوتا ہے اور قسم ہے زمین کی جو پھوٹ کر اناج نکالتی ہے۔یہ کلام یعنی قرآن شریف حق اور باطل میں فیصلہ کرنے والا ہے اور بے فائدہ نہیں یعنی اس کلام کی ایسی ہی ضرورت