تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 216
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۶ سورة الطارق آسمان کا خدا تعالی کی پہلی صفت کا ایک ظل ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ ابتدا ہر ایک چیز کا پانی سے ہے۔انسان بھی پانی سے ہی پیدا ہوتا ہے اور وید کی رُو سے پانی کا دیوتا اکاش ہے جس کو وید کی اصطلاح میں اندر کہتے ہیں مگر یہ سمجھنا غلطی ہے کہ یہ اندر کچھ چیز ہے بلکہ وہی پوشیدہ اور نہاں در نہاں طاقت عظمیٰ جس کا نام خدا ہے اس میں کام کر رہی ہے۔(نسیم دعوت، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۱۲، ۴۱۳) قرآن شریف کی اصطلاح کی رُو سے جو فضا یعنی پول او پر کی طرف ہے جس میں بادل جمع ہو کر مینہ برستا ہے اس کا نام بھی آسمان ہے جس کو ہندی میں اکاش کہتے ہیں۔(نسیم دعوت ، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۴۱۲ حاشیه ) قرآن شریف نے وحی اور الہام کی سنت قدیمہ پر قانون قدرت سے گواہی لانے کے لئے ایک اور مقام میں بھی اسی قسم کی قسم کھائی ہے اور وہ یہ ہے۔وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّبْحَ إِنَّهُ لقَوْلُ فَصل وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ یعنی اس آسمان کی قسم ہے جس کی طرف سے بارش آتی ہے اور اس زمین کی قسم ہے جو بارش سے طرح طرح کی سبزیاں نکالتی ہے کہ یہ قرآن خدا کا کلام ہے۔اور اس کی وحی ہے اور وہ باطل اور حق میں فیصلہ کرنے والا ہے اور عبث اور بیہودہ نہیں۔یعنی بے وقت نہیں آیا موسم کے مینہ کی طرح آیا ہے۔اب خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کے ثبوت کے لئے جو اس کی وحی ہے ایک کھلے کھلے قانون قدرت کو قسم کے رنگ میں پیش کیا یعنی قانون قدرت میں ہمیشہ یہ بات مشہور اور مرتی ہے کہ ضرورتوں کے وقت آسمان سے بارش ہوتی ہے اور تمام مدار زمین کی سرسبزی کا آسمان کی بارش پر ہے۔اگر آسمان سے بارش نہ ہو تو رفتہ رفتہ کنویں بھی خشک ہو جاتے ہیں۔پس در اصل زمین کے پانی کا وجود بھی آسمان کی بارش پر موقوف ہے۔اسی وجہ سے جب کبھی آسمان سے پانی برستا ہے تو زمین کے کنوؤں کا پانی چڑھ آتا ہے۔کیوں چڑھ آتا ہے؟ اس کا یہی سبب ہے کہ آسمانی پانی زمین کے پانی کو اوپر کی طرف کھینچتا ہے۔یہی رشتہ وحی اللہ اور عقل میں ہے۔وحی اللہ یعنی الہام الہی آسمانی پانی ہے اور عقل زمینی پانی ہے اور یہ پانی ہمیشہ آسمانی پانی سے جو الہام ہے تربیت پاتا ہے اور اگر آسمانی پانی یعنی وحی ہونا بند ہو جائے تو یہ زمینی پانی بھی رفتہ رفتہ خشک ہو جاتا ہے۔کیا اس کے واسطے یہ دلیل کافی نہیں کہ جب ایک زمانہ دراز گزر جاتا ہے اور کوئی الہام یافتہ زمین پر پیدا نہیں ہوتا تو عقلمندوں کی معقلیں نہایت گندی اور خراب ہو جاتی ہیں۔جیسے زمینی پانی خشک ہو جا تا اور سڑ جاتا ہے۔