تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 215 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 215

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۵ سورة الطارق الذُّكُورِ وَالْإِنَاتِ وَلَا تَأْني إحْدَاهُمَا مِن ہوتے چلے جائیں گے اور ان میں سے نہ کوئی دوسرے الأخرى و لا تطفى۔فَتَائِبُرَاتُ السَّمَاءِ سے نفرت کرے گا اور نہ سرکشی۔پس آسمان کی تاثیرات تَنْزِلُ ثُمَّ تَنْزِلُ وَالْاَرْضُ تَقْبَلُهَا ثُمَّ متواتر نازل ہوتی رہتی ہیں اور زمین اس کو بار بار قبول تقبلُ وَلَا تَنقَطِعُ هذه السلسلة کرتی ہے اور یہ عمل ایک لمحہ کے لئے بھی نہیں رکتا اور اگر الثَّوْرِيَّةُ طَرْفَةَ عَيْنٍ وَ لَوْ لا ذَالِك ایسا نہ ہوتا تو زمین اور اس میں موجود مخلوقات سب کا لَفَسَدَتِ الْأَرْضُ وَمَا فِيْهَا۔وَقَالَ اللهُ نظام بگڑ جاتا۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے شروع میں تعالى في أوَّلِ هَذِهِ الْآيَةِ إِنَّه عَلَى رَجْعِهِ ہی فرمایا تھا اِنَّكَ عَلَى رَجْعِهِ لَقَادِر اور اس کے بعد فرمایا لَقَادِرُ وَقَالَ بَعْدَ ذَالِكَ وَالسَّمَاءِ ذَاتِ وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجيع اور تمہیں کیوں کر علم ہو کہ ان الرّجع فَمَا أَدْرَاكَ انه في مجمع ذكر دونوں رجع کے ذکر کو ایک جگہ بیان کرنے سے اللہ تعالیٰ نے الرَّجْعَيْنِ إِلى مَا أَوْلى فَاعْلَمُ أَنَّهُ أَشَارَ کس طرف اشارہ کیا ہے، سو جانا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے إلى أَن عَوْدَ الْإِنْسَانِ بِالْبَعْثِ بَعْد اس میں اس طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان کا بعث بعد الموت الْمَوْتِ فِي قُدْرَةِ اللهِ تَعَالَى كَمَا انّه يُعِید کے ذریعہ دوبارہ زندہ کیا جانا اللہ کی قدرت میں أَرْوَاحَ الْمُقَدَّسِيْنَ بِإِعَادَاتِ انعكاسية ہے۔جس طرح وہ مقدسین کی ارواح کو بروزمی طور پر ين السَّمَاءِ الَّتِي هِيَ ذَاتُ الرّجع إلى آسمان سے (جو ذَاتِ الرّجع ہے ) زمین کی طرف (جو الْأَرْضِ الَّتِي هِيَ ذَاتُ الصَّدْعَ وَمَوْلِد كُلِ ذَاتُ الصدع ہے اور ہر زندہ کا مولد ہے ) لوٹاتا ہے اور مَن تَحْيَا وَهَذِهِ نُكَتَةٌ عَظِيمَةٌ لَطِيفَةٌ - - یہ بڑا لطیف اور عظیم نکتہ ہے۔( ترجمہ از مرتب ) آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۴۴۲ تا ۴۴۶) وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرّجع۔اس جگہ آسمان سے مراد وہ کرہ زمہریر ہے جس سے پانی برستا ہے اور اس آیت میں اس کرہ زمہریر کی قسم کھائی گئی جو مینہ برساتا ہے اور رجع کے معنی مینہ ہے اور خلاصہ معنی آیت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں وحی کا ثبوت دینے کے لئے آسمان کو گواہ لاتا ہوں جس سے پانی برستا ہے یعنی تمہاری روحانی حالت بھی ایک پانی کی محتاج ہے اور وہ آسمان سے ہی آتا ہے جیسا کہ تمہارا جسمانی پانی آسمان سے آتا ہے اگر وہ پانی نہ ہو تو تمہاری عقلوں کے پانی بھی خشک ہو جائیں۔عقل بھی اُسی آسمانی پانی یعنی وحی الہی سے تازگی اور روشنی پاتی ہے۔غرض جس خدمت میں آسمان لگا ہوا ہے یعنی پانی برسانے کی خدمت یہ کام