تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 212 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 212

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۲۱۲ سورة الطارق مَثَلاً كُلُّ مَنْ تُوُفِّيَ أَحَدٌ مِنْ أَقَارِبِهِ وَمَن آتے ہیں۔پھر اس سے یہ بات بھی لازم آتی ہے کہ مثلاً يُؤَاخِيْهِ وَمِنْ عَشِيرَتِهِ وَعَقِبِهِ وَقَوْمِهِ جب ملک الموت کسی کو وفات دینے کے لئے آتا ہے تو وَأصْدِقَائِهِ أَمَامَ عَيْنِهِ فَإِنَّ جِسْم متولی کے اقارب ، بھائی بند اور اولاد اور اس کی قوم کے الْمَلَائِكَةِ جِسْمُ كَأَجْسَامٍ أُخْرى، فَلا لوگ اور اس کے دوست اسے اپنی آنکھوں کے سامنے وَجْهَ لِعَدُم رُؤْيَ مَعَ نُزُولِهِمْ دیکھتے کیونکہ ان کے نزدیک فرشتوں کے اجسام دوسرے بِأَجْسَامِهِمُ الْأَصْلِيَّةِ۔وَأَنْتَ تَعْلَمُ أَنَّ اجسام کی طرح ہی ہیں اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ وہ اپنے خَلْقًا كَثِيرًا يَمُوْتُوْنَ أَمَامَ أَعْيُنِنَا فَلَا اصلی اجسام کے ساتھ نزول کے وقت دکھائی نہ دیں۔پھر تم ترى عِنْدَ نَزْعِهِمْ وَغَمْرَةِ مَوْتِهِمُ یہ بھی جانتے ہو کہ بہت سے لوگ ہمارے سامنے مرتے الْمَلائِكَةَ الَّتى تَوَفَّهُمْ وَمَا نَسْمَعُ مَا ہیں لیکن ان کی نزع کے وقت ہم ان ملائکہ کو نہیں دیکھتے جو يَسْأَلُونَ الْمَوْلَى وَمَا يُكَلِّمُونَهُم۔ان کو وفات دیتے ہیں اور نہ ہی ہم اس سوال و جواب کو (حمامة البشری ، روحانی خزائن جلد ے صفحہ ۲۷۸،۲۷۷) سنتے ہیں جو وہ مردوں سے کرتے ہیں۔(ترجمہ از مرتب) و لا وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُعِل وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْع لى إِنَّهُ لَقَولُ فَضْل لى وَمَا هُوَ بِالْهَزْلِ إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَ أَكِيدُ كَيْدًا لى وَالْقَوْلُ الْجَامِعُ الْمُهَيْمِنُ الَّذِى بالکل صحیح اور جامع بات جو حق کا پتہ دیتی ہے اور يَهْدِى إِلَى الْحَقِ وَ يَحْكُمُ بَيْنَنَا وَبَيْنَ ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان جھگڑے کا فیصلہ کر دیتی ہے قَوْمِنَا ايَةٌ جَلِيْلَةٌ مِنْ سُوْرَةِ الطَّارِقِ قرآن مجید کی سورۃ طارق کی وہ آیت جلیلہ ہے جو اس بھید کو تُذَكَّرُ سِرًّا غَفَلُوا مِنْهُ أَهْلُ الْهَوَا بتاتی ہے جس سے اپنی خواہشات کے تابع لوگ غافل ہیں۔أَغْنِي قَوْلَهُ تَعَالَى وَ السَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجُع میری مراد خدا تعالیٰ کے قول وَالسَّمَاءِ ذَاتِ الرَّجْعِ وَالْأَرْضِ وَالْأَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعَ إِنَّهُ لَقَولُ فَصَلُّ وَ ذَاتِ الصَّدِعِ إِنَّهُ لَقَوْلُ فَضْلُ وَ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ إِنَّهُمُ مَا هُوَ بِالْهَزْلِ إِنَّهُمْ يَكِيدُونَ كَيْدًا وَ يَكِيدُونَ كيدا و اكيد كیدا سے ہے پس اے عزیز و تمہیں اَكِيْدُ كَيْدًا فَاعْلَمُوا أَيُّهَا الْأَعِزَّةُ آن معلوم ہونا چاہیے کہ یہ آیت ان اسرار کا موجیں مارتا ہوا ایک هذِهِ الْآيَةَ بَحْرُ مَوَاجُ من تلك سمندر ہے جس کا کسی کی سوچ نے احاطہ نہیں کیا اور نہ ہی مخلوق