تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 199
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۹۹ سورة البروج بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة البروج بیان فرموده سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيد بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے عرش کو اپنی صفات میں داخل کیا ہے جیسے ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيْدُ گویا خدا تعالیٰ کے کمال علو کو دوسرے معنوں میں عرش سے بیان کیا ہے اور وہ کوئی مادی اور جسمانی شے نہیں ہے ور نہ زمین اور آسمان وغیرہ کی طرح عرش کی پیدائش کا ذکر بھی ہوتا اس لئے شبہ گزرتا ہے کہ ہے تو شے مگر غیر مخلوق۔اور یہاں سے دھوکا کھا کر آریوں کی طرف انسان چلا جاتا ہے کہ جیسے وہ خدا کے وجود کے علاوہ اور اشیاء کوغیر مخلوق مانتے ہیں ویسے ہی یہ عرش کو ایک شے غیر مخلوق جز از خدا ماننے لگتا ہے۔یہ گمراہی ہے۔اصل میں یہ کوئی شے خدا کے وجود سے باہر نہیں ہے۔جنہوں نے اسے ایک شے غیر مخلوق قرار دیا وہ اسے اتم اور اکمل نہیں مانتے اور جنہوں نے مادی مانا وہ گمراہی پر ہیں کہ خدا کو ایک مجسم شے کا محتاج مانتے ہیں کہ ایک ڈولہ کی طرح البدر جلد ۲ نمبر ۵ مورخه ۲۰ فروری ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸) فرشتوں نے اسے اُٹھایا ہوا ہے۔فَقَالُ لِمَا يُرِيدُه تیرا رب وہ قادر ہے جو کچھ چاہے وہی ہو جاتا ہے۔( مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحه ۱۳۷)