تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 196 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 196

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۶ سورة الانشقاق پر عام فنا طاری ہوگی۔اور قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفجار کے الفاظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہیں ان سے ایسے معنے مراد نہیں ہیں جو کسی جسم صلب اور کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں۔( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۴۹ تا ۱۵۱ حاشیه در حاشیه) جس وقت آسمان پھٹ جاوے۔۔۔۔یہ مراد نہیں ہے کہ در حقیقت اس وقت آسمان پھٹ جائے گا یا اس کی قوتیں سست ہو جائیں گی بلکہ مدعا یہ ہے کہ جیسے پھٹی ہوئی چیز بیکار ہو جاتی ہے ایسا ہی آسمان بھی بریکارسا ہو گا۔آسمان سے فیوض نازل نہیں ہوں گے اور دنیا ظلمت اور تاریکی سے بھر جائے گی۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۹) وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ۔۔۔۔بدعتوں اور ضلالتوں اور ہر قسم کے فسق و فجور کا پھیل جانا جیسا کہ آیت إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتُ سے مفہوم ہوتا ہے۔(تحفہ گولڑویہ ، روحانی خزائن جلد ۷ ۱ صفحه ۲۴۲، ۲۴۳) وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّت ) وَالْقَتْ مَا فِيهَا وَ تَخَلَّتْ۔ى اسی زمانہ کی علامات میں جبکہ ارضی علوم وفنون زمین سے نکالے جائیں گے۔بعض ایجادات اور صناعات کو بطور نمونہ کے بیان فرمایا ہے اور وہ یہ ہے وَإِذَا الْأَرْضُ مُدَّتُ وَ الْقَتْ مَا فِيهَا وَ تَخَلَّتْ۔جبکہ زمین کھینچی جاوے گی یعنی زمین صاف کی جائے گی اور آبادی بڑھ جاوے گی اور جو کچھ زمین میں ہے اس کو زمین باہر ڈال دے گی اور خالی ہو جائے گی یعنی تمام ارضی استعداد میں ظہور و بروز میں آجائیں گی۔(شهادة القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۸،۳۱۷) أَمَّا زَلْزَلَهُ الْأَرْضِ وَالْقَاءَهَا زمین کے زلزلہ اور اس کے اپنے اندر کی سب چیزوں کو باہر نکال مَا فِيْهَا فَهِيَ إِشَارَةٌ إِلَى انْقِلاب پھینکنے سے اس انقلاب عظیم کی طرف اشارہ ہے جسے تم اپنی آنکھوں عَظِيمٍ تَرَوْنَهُ بِأَعْيُنِكُمْ وَاِیما سے رونما ہوتے دیکھ رہے ہو۔نیز زمینی علوم اور نئی ایجادات اور صنائع إلى ظُهُورِ عُلُومِ الْأَرْضِ وَ کے ظاہر ہونے اور اہلِ ارض کے خلاف شریعت اعمال کرنے اور بَدَايِعِهَا وَ صَنَابِعِهَا وَ بِدُعَاتِها منکرات ، شر انگیزی اور دھوکہ بازی میں مشغول ہونے کی طرف و مكابدها اشارہ ہے۔اسی طرح ان برائیوں میں مشغول ہونے کی طرف وَسَيِّئَاتِها