تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 195
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اَعُوْذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ ۱۹۵ سورة الانشقاق بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة الانشقاق بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام إذَا السَّمَاءُ الْشَقَتْ۔بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ اور اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ قرآن کریم میں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت آسمان پھٹ جائیں گے اور ان میں شگاف ہو جائیں گے اگر وہ لطیف مادہ ہے تو اس کے پھٹنے کے کیا معنے ہیں تو اس کا یہ جواب ہے کہ اکثر قرآن کریم میں سماء سے مراد کل ما فی السماء کو لیا ہے جس میں آفتاب اور ماہتاب اور تمام ستارے داخل ہیں۔ماسوا اس کے ہر یک جرم لطیف ہو یا کثیف قابل فرق ہے بلکہ لطیف تو بہت زیادہ فرق کو قبول کرتا ہے پھر کیا تعجب ہے کہ آسمانوں کے مادہ میں بحکم رب قدیر و حکیم ایک قسم کا فرق پیدا ہو جائے۔وَ ذَلِكَ عَلَى اللهِ یسیر۔بالآخر یہ بات بھی یادر کھنے کے لائق ہے کہ قرآن کریم کے ہر یک لفظ کو حقیقت پر حمل کرنا بھی بڑی غلطی ہے اللہ جل شانہ کا یہ پاک کلام بوجہ اعلیٰ درجہ کی بلاغت کے استعارات لطیفہ سے بھرا ہوا ہے۔سو ہمیں اس فکر میں پڑنا کہ انشقاق اور انفجار آسمانوں کا کیوں کر ہوگا در حقیقت ان الفاظ کے وسیع مفہوم میں ایک دخل بے جا ہے صرف یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ اور اس قسم کے اور بھی عالم مادی کے فنا کی طرف اشارہ ہے الہی کلام کا مدعا یہ ہے کہ اس عالم کون کے بعد فساد بھی لازم پڑا ہوا ہے ہر یک جو بنایا گیا توڑا جائے گا اور ہر یک ترکیب پاش پاش ہو جائے گی اور ہر ایک جسم متفرق اور ذرہ ذرہ ہو جائے گا اور ہر یک جسم اور جسمانی