تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 190 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 190

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۹۰ ہوگا۔آسمان سے فیوض نازل نہیں ہوں گے اور دُنیا ظلمت اور تاریکی سے بھر جائے گی۔سورة الانفطار (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۷ تا ۳۱۹) اس بات کے ثبوت کے لئے کہ در حقیقت یہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح ظاہر ہو جانا چاہیے دو طور کے ولائل موجود ہیں (۱) اول وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ۔۔۔۔ملک میں نہروں کا بکثرت نکلنا جیسا کہ آیت وَ إِذَا الْبِحَارُ فُجْرَت سے ظاہر ہے اور ستاروں کا متواتر ٹوٹنا جیسا کہ آیت وَ إِذَا الكَواكِبُ انْتَثَرَتْ سے ظاہر ہے اور قحط پڑنا اور و با پڑنا اور امساک باراں ہونا جیسا کہ آیت اِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ سے منکشف ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۴۲ حاشیه ) قرآن شریف میں سماء کا لفظ نہ صرف آسمان پر بولا جاتا ہے جیسا کہ عوام کا خیال ہے بلکہ کئی معنوں پر سماء کا لفظ قرآن شریف میں آیا ہے۔چنانچہ مینہ کا نام بھی قرآن شریف میں سماء ہے اور اہلِ عرب مینہ کو سماء کہتے ہیں اور کتب تعبیر میں سماء سے مراد بادشاہ بھی ہوتا ہے اور آسمان کے پھٹنے سے بدعتیں اور ضلالتیں اور ہر ایک قسم کا جور اور ظلم مراد لیا جاتا ہے اور نیز ہر قسم کے فتنوں کا ظہور مراد لیا جاتا ہے۔کتاب تعطیر الا نام میں لکھا ہے فَإِنْ رَأَى السَّمَاءِ انْشَقَّتْ دَلَّ عَلَى الْبِدْعَةِ وَ الضَّلَالَةِ - ( دیکھو صفحہ ۳۰۵ تعطیر الانام )۔تحفہ گولر و بیه، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۴۲ حاشیه ) ممکن ہے کہ ان آیات میں سے بعض قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہوں مگر اول مصداق ان آیات کا یہی دنیا ہے کیونکہ یہ آخری زمانہ کی نشانیاں ہیں اور جب دنیا کا سلسلہ ہی لپیٹا گیا تو پھر کس بات کی یہ نشانیاں ہوں گی۔غالباً اسلام میں ایسے جاہل بھی ہوں گے جو اس راز کو نہیں سمجھے ہوں گے اور خدا تعالیٰ کی پیشگوئیاں جن سے ایمان قوی ہوتا ہے ان کی نظر میں تمام وہ امور بعد الدنیا ہیں۔یہ تمام قرآنی پیشگوئیاں پہلی کتابوں میں مسیح موعود کے وقت کی نشانیاں ٹھہرائی گئی ہیں۔دیکھو دانی ایل باب نمبر ۱۲۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۴۳ حاشیه ) وَأَمَّا تَفْجِيرُ الْبِحَارِ فَقَدْ ربا دریاؤں کو چیر نا۔سو تم نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالی نے ایک رَأَيْتُمُ الله بَعَكَ قَوْمًا فَجَّرُوا ایسی قوم کو برپا کیا ہے جس نے دریاؤں کو چیر دیا ہے اور ان الْبِحَارَ وَ أَجْرَوُا الْأَنْهَارَ وَ هُمْ عَلی سے نہریں نکال دیں اور پھر وہ اور نہریں نکالتے جارہے ہیں اور