تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 188
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۸۸ سورة التكوير إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَس ہے وَالَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَس یعنی ہم رات کو شہادت فَجَعَلَ تَنفُسَ الصُّبْحِ كَأَمْرِ کے طور پر پیش کرتے ہیں جب وہ خاتمہ کو پہنچ جاتی ہے اور صبح کو جب لازم بَعْدَ كَمَالِ ظُلُمَاتِ وہ سانس لینے لگتی ہے۔اس آیہ کریمہ میں رات کے اندھیروں کے کمال اللَّيْلِ۔۔۔۔۔فَأَرَادَ اللهُ أَنْ يَرُدَّ تک پہنچنے کے بعد صبح کے ظاہر ہونے کو لازم قرار دیا ہے۔۔۔۔پس اللہ إِلَى الْمُؤْمِنِينَ أَيَّامَهُمُ الْأُولى تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے کہ وہ مومنوں پر پہلے ترقی کے زمانہ کو لوٹا دے وَأَنْ يُرِيَهُمْ أَنَّهُ رَبُّهُمْ وَأَنَّهُ اور ان کو دکھا دے کہ ان کا ایک قادر رب ہے جو رحمن اور رحیم ہے اور الرَّحْمنُ وَالرَّحِيمُ وَمَالِك يوم اس دن کا مالک ہے جب سب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دیا فِيْهِ يُجْزَى وَيُبْعَثُ فِيْهِ الْمَوٹی جائے گا اور جس میں مردے زندہ کر کے اٹھائے جائیں گے۔اعجاز اسی ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحه ۱۵۸) (ترجمه از مرتب) وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينِ وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَنٍ رَّجِيمٍ۔قرآن۔۔۔غیب کے عطا کرنے میں بخیل نہیں ہے یعنی بخیلوں کی طرح اس کا یہ کام نہیں کہ صرف آپ ہی غیب بیان کرے اور دوسرے کو غیبی قوت نہ دے سکے بلکہ آپ بھی غیب پر مشتمل ہے اور پیروی کرنے والے پر بھی فیضانِ غیب کرتا ہے۔قرآن ہر یک قسم کے امور غیبیہ پرمشتمل ہے اور اس قدر جتلانا جنات کا کام نہیں۔لا (جنگ مقدس، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۸۷) (براہین احمدیہ چہار حصص، روحانی خزائن جلد ۱ صفحه ۵۸۵) إنْ هُوَ الَّا ذكر للعلمين ) لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ قرآن۔۔۔۔ذكر العلمین ہے یعنی ہر ایک قسم کی فطرت کو اس کے کمالات مطلوبہ یاد دلاتا ہے اور ہر یک رتبہ کا آدمی اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔جیسے ایک عامی ویسا ہی ایک فلسفی۔یہ اس شخص کے لئے اترا ہے جو انسانی استقامت کو اپنے اندر حاصل کرنا چاہتا ہے یعنی انسانی درخت کی جس قدر شاخیں ہیں یہ کلام ان سب شاخوں کا پرورش کرنے والا اور حد اعتدال پر لانے والا ہے اور انسانی قومی کے ہریک پہلو پر اپنی تربیت کا اثر ڈالتا ہے۔(کرامات الصادقین، روحانی خزائن جلد ۷ صفحه ۵۲)