تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 177 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 177

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 162 سورة التكوير دوسرے کو بآسانی خبریں پہنچا سکیں گے۔۔۔۔یہ سب علامتیں اس زمانہ میں جس میں ہم ہیں پوری ہوگئیں۔عقلمند کے لئے یہ صاف اور روشن راہ ہے کہ ایسے وقت میں خدا نے مجھے مبعوث فرمایا جب کہ قرآن شریف کی لکھی ہوئی تمام علامتیں میرے ظہور کے لئے ظاہر ہو چکی ہیں۔لیکھر لاہور ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۸۳، ۱۸۴) اسی زمانہ کی نسبت مسیح موعود کے ضمن بیان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی خبر دی جو صحیح مسلم میں درج ہے اور فرمایا وَيُترك الْقِلاصُ فَلا يُسْخى عَلَيْهَا یعنی مسیح موعود کے زمانہ میں اونٹنی کی سواری موقوف ہو جائے گی پس کوئی ان پر سوار ہو کر ان کو نہیں دوڑائے گا اور یہ ریل کی طرف اشارہ تھا کہ اس کے نکلنے سے اونٹوں کے دوڑانے کی حاجت نہیں رہے گی اور اونٹ کو اس لئے ذکر کیا کہ عرب کی سواریوں میں سے بڑی سواری اونٹ ہی ہے جس پر وہ اپنے مختصر گھر کا تمام اسباب رکھ کر پھر سوار بھی ہو سکتے ہیں اور بڑے کے ذکر میں چھوٹا خود ضمنا آجاتا ہے۔پس حاصل مطلب یہ تھا کہ اس زمانہ میں ایسی سواری نکلے گی کہ اونٹ پر بھی غالب آجائے گی جیسا کہ دیکھتے ہو کہ ریل کے نکلنے سے قریبا وہ تمام کام جو اونٹ کرتے تھے اب ریلیں کر رہی ہیں۔پس اس سے زیادہ تر صاف اور منکشف اور کیا پیشگوئی ہوگی چنانچہ اس زمانہ کی قرآن شریف نے بھی خبر دی ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَإِذَا الْعِشَارُ عُظِلت یعنی آخری زمانہ وہ ہے کہ جب اونٹنی بریکار ہو جائے گی۔یہ بھی صریح ریل کی طرف اشارہ ہے اور وہ حدیث اور یہ آیت ایک ہی خبر دے رہی ہیں اور چونکہ حدیث میں صریح مسیح موعود کے بارے میں یہ بیان ہے اس سے یقینا یہ استدلال کرنا چاہیے کہ یہ آیت بھی مسیح موعود کے زمانہ کا حال بتلا رہی ہے اور اجمالاً مسیح موعود کی طرف اشارہ کرتی ہے۔و (شهادة القرآن، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۰۹،۳۰۸) عام دعوت کا زمانہ جو مسیح موعود کا زمانہ ہے وہ ہے جب کہ اونٹ بریکار ہو جائیں گے یعنی کوئی ایسی نئی سواری پیدا ہو جائے گی جو اونٹوں کی حاجت نہیں پڑے گی اور حدیث میں بھی ہے کہ يُتْرَكُ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَى علیقا یعنی اس زمانہ میں اونٹ بیکار ہو جائیں گے اور یہ علامت کسی اور نبی کے زمانہ کو نہیں دی گئی۔سو شکر کرو کہ آسمان پر نور پھیلانے کے لئے طیاریاں ہیں۔زمین میں زمینی برکات کا ایک جوش ہے۔یعنی سفر اور حضر میں۔اور ہر ایک بات میں وہ آرام تم دیکھ رہے ہو جو تمہارے باپ دادوں نے نہیں دیکھے۔گویا د نیا نئی ہوگئی ہے۔بے بہار کے میوے ایک ہی وقت میں مل سکتے ہیں۔چھ مہینے کا سفر چند روز میں ہو سکتا ہے ہزاروں کوسوں کی خبریں ایک ساعت میں آسکتی ہیں۔ہر ایک کام کی سہولت کے لئے مشینیں اور کلیں موجود ہیں اگر