تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 168

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۸ سورة التكوير جائیں گے وَإِذَا الْوُحُوش حُشرت اور جس وقت وحشی آدمیوں کے ساتھ اکٹھے کئے جائیں گے۔مطلب یہ ہے کہ وحشی قو میں تہذیب کی طرف رجوع کریں گی اور ان میں انسانیت اور تمیز آئے گی اور اراذل دنیوی مراتب اور عزت سے ممتاز ہو جائیں گے اور بباعث دنیوی علوم و فنون پھیلنے کے شریفوں اور رزیلوں میں کچھ فرق نہیں رہے گا بلکہ رذیل غالب آجائیں گے یہاں تک کہ کلید دولت اور عنان حکومت ان کے ہاتھ میں ہوگی اور مضمون اس آیت کا ایک حدیث کے مضمون سے بھی ملتا ہے۔۔۔۔۔اور فرمایا إذا الشمس كورت جس وقت سورج لپیٹا جاوے گا یعنی سخت ظلمت جہالت اور معصیت کی دنیا پر طاری ہو جائے گی۔و إذا النجوم الكدرت اور جس وقت تارے گدلے ہو جاویں گے یعنی علماء کا نو را خلاص جاتا رہے گا۔(شہادت القرآن ، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه ۳۱۷ تا ۳۱۹) اس بات کے ثبوت کے لئے کہ در حقیقت یہ آخری زمانہ ہے جس میں مسیح ظاہر ہو جانا چاہیے دو طور کے دلائل موجود ہیں (۱) اول وہ آیات قرآنیہ اور آثار نبویہ جو قیامت کے قرب پر دلالت کرتے ہیں اور پورے ہو گئے ہیں جیسا کہ۔۔۔۔۔۔اونٹوں کی سواری کا موقوف ہو جانا جس کی تشریح آیت وَ إِذَا الْعِشَارُ عُظِلَتُ سے ظاہر ہے۔۔۔۔۔اور سخت قسم کا کسوف شمس واقع ہونا جس سے تاریکی پھیل جائے جیسا کہ آیت اذا الشَّمْسُ كورت سے ظاہر ہے اور پہاڑوں کو اپنی جگہ سے اُٹھا دینا جیسا کہ آیت وَ إِذَا الْجِبَالُ سُيْرَت سے سمجھا جاتا ہے اور جو لوگ وحشی اور اراذل اور اسلامی شرافت سے بے بہرہ ہیں ان کا اقبال چمک اُٹھنا جیسا کہ آیت وَإِذَا الْوُحُوش حیرت سے مترشح ہو رہا ہے اور تمام دنیا میں تعلقات اور ملاقاتوں کا سلسلہ گرم ہو اور اور ہو جانا اور سفر کے ذریعہ سے ایک کا دوسرے کو ملنا سہل ہو جانا جیسا کہ بدیہی طور پر آیت وَ إِذَا النُّفُوسُ زُوجَتْ سے سمجھا جاتا ہے اور کتابوں اور رسالوں اور مخطوط کا ملکوں میں شائع ہو جانا جیسا کہ آیت وَإِذَا الصُّحُفُ نشرت سے ظاہر ہو رہا ہے اور علماء کی باطنی حالت کا جو نجوم اسلام ہیں مکدر ہو جانا جیسا کہ وَإِذَا النُّجوم انگدارت سے صاف معلوم ہوتا ہے۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۲۴۲، ۲۴۳) منجملہ ان دلائل کے جو میرے مسیح موعود ہونے پر دلالت کرتے ہیں خدا تعالیٰ کے وہ دونشان ہیں جو دنیا کو کبھی نہیں بھولیں گے یعنی ایک وہ نشان جو آسمان میں ظاہر ہوا اور دوسرا وہ نشان جوز مین نے ظاہر کیا۔۔۔۔۔زمین کا نشان وہ ہے جس کی طرف یہ آیت کریمہ قرآن شریف کی یعنی وَ إِذَا الْعِشَارُ عُظَلَتْ اشارہ کرتی ہے جس کی تصدیق میں مسلم میں یہ حدیث موجود ہے وَيُغرك القِلاصُ فَلَا يُسْعَى عَلَيْهَا - خسوف کسوف کا ووو