تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 162 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 162

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۶۲ سورة النزعت گویا اس کا نام را جفہ رکھ دیا جائے گا یعنی متواتر زلزلے آتے رہیں گے اور اس کے بعد پھر ایک اور بڑا زلزلہ آئے گا۔ اس میں آئندہ زلزلے کے واسطے ایک پیشگوئی ہے اور جو زلزلہ ہو چکا ہے اس کی بھی پیشگوئی درج ہے۔ یہ قرآن شریف کی صداقت کا ایک بڑا بھاری نشان ہے ۔ ( مجموعہ اشتہارات جلد دوم صفحہ ۶۳۷ حاشیہ ) فَأَمَّا مَنْ طَغَى وَاثَرَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَأْوَى وَ أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عمل والے کو میں کس طرح جزاء دوں گا فَأَمَّا مَنْ طَغَى - وَاثَرَ الْحَيُوةَ الدُّنْيَا - فَإِنَّ الْجَحِيمَ هِيَ الْمَاوی ۔ جو شخص میرے حکموں کو نہیں مانے گا میں اس کو بہت بری طرح سے جہنم میں ڈالوں گا اور ایسا ہوگا کہ آخر جہنم تمہاری جگہ ہوگی ۔ وَ أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاوی اور جو شخص میری عدالت کے تخت کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرے گا اور خیال رکھے گا تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اس کا ٹھکانہ جنت میں کروں گا۔ البدر جلد ۲ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحہ ۲۱۰ ، ۲۱۱) وَ أَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاوى ۔ یعنی جو شخص اپنے پروردگار سے ڈر کر تزکیہ نفس کرے اور ماسوائے اللہ سے منہ پھیر کر خدائے تعالیٰ کی طرف رجوع لے آئے تو وہ جنت میں ہے اور جنت اس کی جگہ ہے یعنی خود ایک روحانی جنت باعث قوت ایمانی و حالت عرفانی اس کے دل میں پیدا ہو جاتی ہے جو اس کے ساتھ رہتی ہے اور وہ اس میں رہتا ہے۔ سرمه چشمه آریہ، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه (۱۴۳) مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى - فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَاوی سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بہشتی زندگی اسی دنیا سے شروع ہو جاتی ہے۔ اگر ہوا، نفس کو روک دیں۔ صوفیوں نے جو فناء وغیرہ الفاظ سے جس مقام کو تعبیر کیا ہے وہ یہی ہے کہ نھی النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى کے نیچے ہو۔ الحکم جلد ۹ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ راگست ۱۹۰۵ء صفحه (۳) جو کوئی اپنے رب کے آگے کھڑا ہونے سے ڈرتا ہے اور اپنے نفس کی خواہشوں کو روکتا ہے تو جنت اس کا مقام ہے۔ ہوائے وائے نفس کو روکنا یہی فنافی اللہ ہونا ہے اور اس سے انسان خدا کی رضا کو حاصل کر کے اسی جہان