تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 160 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 160

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ١٦٠ سورة النزعت ثابت کرنا باقی رہا کہ نظام ظاہری میں بھی جو کچھ ہو رہا ہے ان تمام افعال اور تغیرات کا بھی انجام اور انصرام بغیر فرشتوں کی شمولیت کے نہیں ہوتا ۔ سو منقولی طور پر تو اس کا ثبوت ظاہر ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے فرشتوں کا نام مدبرات اور مقسمات امر رکھا ہے اور ہر یک عرض اور جوہر کے حدوث اور قیام کا وہی موجب ہیں یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے عرش کو بھی وہی اُٹھائے ہوئے ہیں۔ ( آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۱۳۷، ۱۳۸ حاشیه ) فَإِنَّ لِكُلِّ صِفَةٍ مَلَكٌ مُوَكَّلْ قَدْ خُلِقَ اللہ تعالیٰ کی ہر صفت کے لئے ایک فرشتہ مقرر ہے لِتَوْزِيعِ تِلْكَ الصَّفَةِ عَلَى وَجْهِ التَّدْبِيرِ جو بڑے منظم طریق سے اس صفت کی برکات کو تقسیم وَوَضْعِهَا فِي مَحَلِّهَا وَإِلَيْهِ إِشَارَةٌ فِي قَوْلِهِ کرنے اور اسے برمحل رکھنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔ تَعَالَى فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا - اسی کی طرف اللہ تعالیٰ کے کلام فَالْمُدَبِرَاتِ اَمْرًا (کرامات الصادقین ، روحانی خزائن جلد ۷ صفحہ ۱۳۰) میں اشارہ ہے۔ (ترجمہ از مرتب) أَعْلَمُ مِن رَّبِّي أَنَّ الْمَلَائِكَةَ مُدَبَّرَاتٌ میں نے اپنے رب سے یہ علم پایا ہے کہ فرشتے سورج لِلشَّمْسِ وَالْقَمَرِ وَالنُّجُومِ وَكُلّ مَا فِي ، چاند، ستاروں اور آسمان وزمین کی ہر چیز کا انتظام کرنے السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، وَقَدْ قَالَ اللهُ تَعَالَى اِن والے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالی فرماتا ہے اِن كُل نَفْسٍ لَمَّا كُلُّ نَفْسٍ لَمَّا عَلَيْهَا حَافِظُ، وَقَالَ عَلَيْهَا حَافظ - اس طرح فرمایا فَالْمُدَ بِرَتِ امْرًا ۔ اور اسی فَالْمُدَبِّرَاتِ أَمْرًا وَمِثْلَ تِلْكَ الْآيَاتِ مضمون کی بہت سی آیات قرآن کریم میں ہیں۔ پس كَثِيرٌ فِي الْقُرْآنِ، فَطُوبِي لِلْمُتَدَبِرِينَ مبارک ہیں وہ جو تدبر کرتے ہیں ۔ ( ترجمہ از مرتب ) (حمامة البشرى ، روحانی خزائن جلدے صفحہ ۲۹۶) ہماری شریعت میں طلب اسباب حرام نہیں ہے ان پر بھروسہ اور تو کل ضرور حرام ہے اس لئے کوشش کو ہاتھ سے نہ چھوڑ نا چاہیے۔ خدا تعالیٰ قرآن شریف میں قسم کھاتا ہے فَالْمُدَ بِرَاتِ أَمْرًا۔ ماسوا اس کے خدا پر توکل اور دعا کرنے سے برکت حاصل ہوتی ہے۔ (البدر جلد ۲ نمبر ۴۸ مورخه ۲۴ دسمبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۸۴) دعا کے ساتھ تدابیر کو نہ چھوڑے کیونکہ اللہ تعالیٰ تدبیر کو بھی پسند کرتا ہے اور اسی لئے فَالْمُدَبِرَاتِ اَمْرًا کہہ کر قرآن شریف میں قسم بھی کھائی ہے۔ جب وہ اس مرحلہ کو طے کرنے کے لئے دعا بھی کرے گا اور تدبیر سے بھی اس طرح کام لے گا کہ جو مجلس اور صحبت اور تعلقات اس کو حارج ہیں ان سب کو ترک کر دے گا اور ل الطارق : ۵