تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 158
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۸ سورة النبا يَنْطِقُوْنَ مِنَ الْهَوَى بَلْ بِوَحْيِ يوحى، وہ روح القدس کے بلائے بولتے تھے نہ اپنی خواہش فَكَأَنَّهُمْ صَارُوا رُوحَ الْقُدُسِ فَقَط لا سے اور گویا وہ روح القدس ہی ہو ہو۔ گئے تھے جس کے ساتھ نَفْسَ مَعَهُ وَلَا أَعْرَاضَهَا ثُمَّ اعْلَمْ أَنَّ نفس کی آمیزش نہیں پھر جان کہ انبیاء ایک ہی جان کی الْأَنْبِيَاء كَنَفْسٍ وَاحِدَةٍ، لَّا يُقَالُ إِنَّهُمْ طرح ہیں ۔ نہیں کہہ سکتے کہ وہ کئی روح ہیں بلکہ کہنا چاہیئے أَرْوَاحُ بَلْ يُقَالُ إِنَّهُمْ رُوْحٌ، وَذَلِكَ کہ وہ ایک ہی روح ہے اور یہ اس لئے کہ ان میں روحانی لِشِدَّةِ الحَادِهِمُ الرُّوْحَانِيَّةِ وَتَنَاسُبِ طور پر نہایت درجہ پر اتحاد واقع ہے اور جو ہر ایمانی کی ان جَوْهَرِهِمُ الْإِيمَانِيَّةِ، وَبِمَا أَنَّهُمْ فَنَوْا مِنْ میں مناسبت غایت مرتبہ پر ہے اور نیز اس لئے کہ وہ اپنے أَنْفُسِهِمْ وَحَرَكَاتِهِمْ وَسَكَنَاتِهِمْ نفس اور اپنی جنبش اور اپنے سکون اور اپنی خواہشوں اور وَأَهْوَائِهِمْ وَجَذَبَاتِهِمْ ، وَمَا بَقِيَ فِيهِمْ إِلَّا اپنے جذبات سے بکلی فنا ہو گئے اور ان میں بجز روح رُوْحُ الْقُدُسِ، وَوَصَلُوا اللهَ مُتَبَتِّلِينَ القدس کے کچھ باقی نہ رہا اور سب چیزوں سے توڑ کے اور مُنْقَطِعِينَ، فَأَرَادَ اللهُ أَنْ يُبَيِّنَ فِي هَذِهِ قطع تعلق کر کے خدا کو جاملے پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اس ہیں الْآيَةِ مَقَامَ تَجَرُّدِهِمْ وَمَرَاتِبَ آیت میں ان کے تجرد اور تقدس کے مقام کو ظاہر کرے اور تَقَدُّسِهِمْ وَتَطَهُرِهِمْ هِمْ مِنْ أَدْنَاسِ الْجِسْمِ بیان کرے کہ وہ جسم اور نفس کے میلوں سے کیسے دور ہا وَالنَّفْسِ، فَسَمَّاهُمْ رُوحًا إِظْهَارًا الجَلَالَةِ پس ان کا نام اس نے روح یعنی روح القدس رکھا تا کہ شَأْنِهِمْ وَطَهَارَةِ جَنَانِهِمْ، وَأَنَّهُمْ اس لفظ سے ان کی شان کی بزرگی اور ان کے دل کی سَيُلَقَبُونَ بِهَذَا التَّقْبِ فِي يَوْمِ الْقِيَامَةِ پاکیزگی کھل جائے اور وہ عنقریب قیامت کو اس لقب سے لِيُرِيَ اللهُ خَلْقَهُ مَقَامَ انْقِطَاعِهِمْ ، پکارے جائیں گے تا کہ خدا تعالیٰ لوگوں پر ان کا مقام وَلِيُمَيِّزَ بَيْنَ الْخَبِيثِينَ وَالطَّيِّبِينَ انقطاع ظاہر کرے اور تا کہ خبیثوں اور طبیبوں میں فرق وَلَعَمْرُ اللَّهِ إِنْ هَذَا هُوَ الْحَقُّ، فَتَدَبَّرُوا فِي کر کے دکھلاوے۔ اور بخدا یہی بات حق ہے پس تم كِتَابِ اللهِ وَلَا تُنْكِرُوا مُسْتَعْجِلِينَ كتاب اللہ میں تدبر کرو اور جلد بازی سے انکارمت کرو۔ (نور الحق حصہ اول، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۹۶ تا۹۹) ( ترجمہ اصل کتاب سے )