تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 156
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۶ سورة النبا جِبْرَائِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، أَوْ مَلَكَ آخَرُ جبرائیل علیہ السلام یا کوئی دوسرا فرشتہ ہے اور دونوں قسم کی عَلَى اخْتِلَافِ الرَّوَايَاتِ كَمَا لَا يَخْفى روایتیں پائی جاتی ہیں جیسا کہ دیکھنے والوں پر پوشیدہ عَلَى النَّاظِرِينَ ثُمَّ مَنْطُوقُ الْآيَةِ نہیں ۔ پھر منطوق آیت کا بتصریح ظاہر کرتا ہے اور تنقیح کے يُبْدِى بِالتَّصْرِيحِ وَيَحْكُمُ بِالتَّنْقِيحِ أَنَّ ساتھ حکم دیتا ہے کہ یہ واقعہ قیامت سے متعلق ہے اور اس هُذِهِ الْوَاقِعَةَ مُتَعَلِّقَةٌ بِالْقِيَامَةِ وَلَهَا کے لئے علامت کی طرح ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس قصہ کو كَالْعَلَامَةِ، فَإِنَّ اللهَ تَعَالَى ذَكَرَ هَذِهِ بہشت کے ذکر کے درمیان لکھا ہے اور اس کی نعمتوں کے الْقِصَّةَ فِي ذِكْرِ قِصَّةِ الْجَنَّةِ وَنُعَمَائِهَا بیان کرنے کے وقت اس کو بیان فرمایا ہے اور پھر اور بھی الْعَامَّةِ، ثُمَّ صَرَّحَ بِتَصْرِيحِ اخَرَ وَقَالَ تصریح کر کے فرمایا ہے کہ یہ وہی حق کے کھلنے کا دن ہے اور ذلِكَ الْيَوْمُ الْحَقُّ وَلَفْظُ الْيَوْمِ الْحَقِّ فِي اليوم الحق قرآن میں قیامت کا نام ہے چنانچہ واقف کار الْقُرْآنِ بِمَعْنَى الْقِيَامَةِ، وَيَعْلَمُهُ كُلُّ امانت دار اس کو جانتا ہے پیس اب غور کر کہ کیوں کر خدا تعالیٰ خَبِيرٍ أَمِينِ۔ فَانْظُرُ كَيْفَ بَيْنَ أَنَّهَا نے کھول کر بیان کر دیا کہ یہ واقعہ قیامت سے متعلق ہے وَاقِعَةٌ مِنْ وَقَائِعِ يَوْمِ الدِّينِ، ثُمَّ انْظُرُ پھر تو غور کر کہ وہ لوگ جن کے دل بیمار ہیں اور ان کے دل كَيْفَ يَفْتَرُونَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ میں خدائے تعالیٰ کا خوف نہیں کیوں کر افترا پردازیاں کر وَلَا يَخَافُونَ اللهَ وَمَا كَانُوا مُتَّقِينَ۔ رہے ہیں اور تقویٰ اختیار نہیں کرتے۔ پس حاصل کلام یہ فَالْحَاصِلُ أَنَّ الْآيَةَ لَا تُؤَيِّدُ زَعْمَ هذَا ہے کہ یہ آیت اس نکتہ چین کے زعم کی کچھ مؤید نہیں بلکہ یہ تو الْوَاشِي بَلْ تُمَزِّقُهُ، وَبِهَا يَقَعُ الْقَوْلُ اس کے قول کو ٹکڑے ٹکڑے کرتی ہے اور اس کے ساتھ عَلَيْهِ وَتَجْعَلُهُ الْآيَةُ مِنَ الْكَاذِبِينَ۔ فَإِنَّهُ بات اسی پر پڑتی ہے اور یہ آیت اس کو جھوٹوں میں سے يَقُولُ إِنَّ عِيسَى إِلَهُ وَابْنُ إِلهِ، وَيَقُولُ ٹھہراتی ہے کیونکہ اس نکتہ چین کا یہ قول ہے کہ عیسیٰ خدا اور إِنَّ الرُّوحَ هُوَ اللهُ وَعَيْنُهُ، وَالْآيَةُ تُبْدِی خدا کا بیٹا ہے اور کہتا ہے کہ روح خدا کو ہی کہتے ہیں اور روح أَنَّ هَذَا مَيْنُهُ، وَتُبْدِى أَنَّ الرُّوحَ الَّذِی اور خدا ایک ہی ہے اور آیت ظاہر کر رہی ہے کہ یہ اس کا ذُكِرَ هُهُنَا هُوَ عَبْدٌ عَاجِزٌ تَحْتَ حُكْمِ جھوٹ ہے اور نیز ظاہر کرتی ہے کہ وہ روح جس کا ذکر اس اللهِ وَقَدْرِهِ، وَمَا كَانَ لَهُ خِيَرَةُ فِي أَمْرِهِ، جگہ ہے وہ ایک بندہ عاجز ہے جس کو خدا کے کسی امر میں وَإِنْ هُوَ إِلَّا مِنَ الطَّائِعِينَ، وَمَا كَانَ لَهُ اختیار نہیں اور کچھ نہیں صرف فرمانبردار ہے اور نیز یہ بھی