تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 152
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۵۲ سورة المرسلت الْأَرْضَ كِفَانَا - اَحْيَاء وَ اَمْوَاتًا۔ترجمہ یعنی کیا ہم نے زمین کو ایسے طور سے نہیں بنایا کہ وہ انسانوں کے اجسام کو زندہ اور مردہ ہونے کی حالت میں اپنی طرف کھینچ رہی ہے کسی جسم کو نہیں چھوڑتی کہ وہ آسمان (براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحه ۴۰۰) پر جاوے۔آسمان سے نازل ہونا خود غیر معقول اور خلاف نص قرآن ہے۔۔۔۔۔۔کیا خدا تعالیٰ کو حضرت عیسی کو آسمان پر چڑھانے کے وقت وہ وعدہ یاد نہ رہا کہ الم نَجْعَلِ الْأَرْضَ بِفَاتًا - أَحْيَاء وَ اَمْوَاتًا - (حقیقۃ الوحی ، روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه ۴۷) کیا ہم نے زمین کو ایسے طور سے پیدا نہیں کیا جو اپنے تمام باشندوں کو اپنی طرف کھینچ رہی ہے خواہ وہ زندوں میں سے ہوں اور خواہ مردوں میں سے ہوں اور یہ بھی خدا کا وعدہ ہے۔چشمه معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحه ۲۲۸) ( مخالفین۔ناقل ) قرآن شریف پیش کرتے ہیں کہ اس میں آسمان پر اُٹھایا جانا لکھا ہے حالانکہ قرآن شریف تو بڑے زور سے اس کی وفات ثابت کرتا ہے فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيْبَ اور قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ اور الم نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَاتًا وغیرہ بہت سی آیات سے وفات ثابت ہوتی ہے۔(البدر جلد ۳ نمبر ۱۵ مورخه ۱۶ را پریل ۱۹۰۴ صفحه ۴) انسان کے دو جسم ہیں ایک زمینی اور دوسرا آسمانی جسم ہے۔زمینی جسم کے متعلق قرآن شریف میں آیا ہے اَلَمْ نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَا تا پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج جس جسم کے ساتھ ہوا وہ آسمانی جسم الحکم جلد ۹ نمبر ۲۹ مورخه ۱۷ /اگست ۱۹۰۵ء صفحه ۵) تھا۔خدا نے وعدہ کیا ہوا تھا اَلَم نَجْعَلِ الْأَرْضَ كِفَانَا - اَحْيَاء وَ اَمْوَاتًا۔جس کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے زمین کو زندوں اور مردوں کے سمیٹنے کے لئے کافی بنایا ہے اور اس میں ایک کشش ہے جس کی وجہ سے زمین والے کسی اور جگہ زندگی بسر کر ہی نہیں سکتے۔اب اگر بشر آسمان پر گیا ہوا مان لیا جاوے تو نعوذ باللہ ماننا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے اپنا وعدہ توڑ دیا۔الحکم جلد نمبر ۱ ۴ مورخہ ۷ ارنومبر ۱۹۰۷ ، صفحہ ۳) اِنْطَلِقُوا إلى مَا كُنتُم بِهِ تُكَذِبُونَ انْطَلِقُوا إِلى ظِلَّ ذِي ثَلَثِ شُعَبِ لا لا ظَلِيلٍ وَلَا يُغْنِي مِنَ اللَّهَبِ اس جگہ یاد رکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ اپنی طرف سے بندہ پر کوئی مصیبت نہیں ڈالتا بلکہ وہ انسان کے