تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 146

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۶ سورة الدهر اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جو نہایت ہی ہولناک ہے۔ الحکم جلد ۵ نمبر ۲۷ مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۰۱ صفحہ ۲) مومن وہ ہیں جو خدا کی محبت سے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلاتے ہیں اور انہیں کہتے ہیں کہ ہم محض خدا کی محبت اور اس کے منہ کے لئے تمہیں دیتے ہیں ہم تم سے کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور نہ شکر گزاری چاہتے ہیں ۔ ( سراج الدین عیسائی کے چار سوالوں کا جواب، روحانی خزائن جلد ۱۲ صفحه ۳۶۸) کامل راست باز جب غریبوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں تو محض خدا کی محبت سے دیتے ہیں نہ کسی اور غرض سے دیتے ہیں اور وہ انہیں مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ یہ خدمت خاص خدا کے لئے ہے اس کا ہم کوئی بدلہ نہیں چاہتے اور نہ ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارا شکر کرو۔ (لیکچر لاہور، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۵۶) املاک و اسباب کا خیال کرنا کہ اس کا وارث کوئی ہو یہ شرکا کے قبضہ میں نہ چلے جاویں فضول اور دیوانگی ہے ایسے خیالات کے ساتھ دین جمع نہیں ہو سکتا ہاں یہ منع نہیں بلکہ جائز ہے کہ اس لحاظ سے اولاد اور دوسرے متعلقین کی خبر گیری کرے کہ وہ اس کے زیر دست ہیں تو پھر یہ بھی ثواب اور عبادت ہی ہوگی اور خدا تعالیٰ کے حکم کے نیچے ہو گا جیسے فرمایا ہے وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمَا وَ اَسِيرًا اس آیت میں مسکین سے مراد والدین بھی ہیں کیونکہ وہ بوڑھے اور ضعیف ہو کر بے دست و پا ہو جاتے ہیں اور محنت مزدوری کر کے اپنا پیٹ پالنے کے قابل نہیں رہتے اس وقت ان کی خدمت ایک مسکین کی خدمت کے رنگ میں ہوتی ہے اور اسی طرح اولاد جو کمزور ہوتی ہے اور کچھ نہیں کر سکتی اگر یہ اس کی تربیت اور پرورش کے سامان نہ کرے تو وہ گویا یتیم ہی ہے پس ان کی خبر گیری اور پرورش کا تہیہ اس اصول پر کرے تو ثواب ہوگا۔ اور بیوی اسیر کی طرح ہے اگر یہ عَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ پر عمل نہ کرے تو وہ ایسا قیدی ہے جس کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے ۔ غرض ان سب کی غور و پرداخت میں اپنے آپ کو بالکل الگ سمجھے اور ان کی پرورش محض رحم کے لحاظ سے کرے نہ کہ جانشین بنانے کے واسطے بلکہ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا کا لحاظ ہو۔ الحکم جلد ۸ نمبر ۸ مورخه ۱۰ / مارچ ۱۹۰۴ ء صفحه ۶ ) تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یا درکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو اور بلاتمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمًا اسیرا وہ اسیر اور قیدی جو آتے تھے اکثر کفار ہی ہوتے تھے۔ اب دیکھ لو کہ اسلام کی ہمدردی کی انتہا کیا