تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 145 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 145

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام الده سورة الدهر بہت مفید چیز ہے اور میرا اعتقاد ہے کیونکہ قرآن کریم نے بتلایا ہے کہ یہ جلن کو روکتا ہے اور اس کو سکینت اور تفریح دیتا ہے۔ الانذار صفحه (۸) نیک لوگ وہ جام پیئیں گے جس میں کافور کی آمیزش ہے یعنی ان کے دل وہ شراب پی کر غیر کی محبت سے بکلی ٹھنڈے ہو جاویں گے۔ وہ کافوری شراب ایک چشمہ ہے جس کو اسی دنیا میں خدا کے بندے پینا شروع کرتے ہیں ۔ وہ اس چشمہ کو ایسا رواں کر دیتے ہیں کہ نہایت آسانی سے بہنے لگتا ہے اور وسیع اور فراخ نہریں ہو جاتی ہیں ۔ یعنی ریاضات عشقیہ سے سب روکیں ان کی دور ہو جاتی ہیں اور نشیب وفراز بریت وسعت تامہ پیدا ہو جاتی ہے۔ بشریت کا صاف اور ہموار ہو جاتا ہے اور جناب الہی کی طرف انقطاع کلی میسر آ کر معارف الہیہ میں سرمه چشم آریه، روحانی خزائن جلد ۲ صفحه ۱۵۶) بہشت کے انعامات کے متعلق نیک لوگوں کی تعریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا یعنی اس جگہ نہریں نکال رہے ہیں ۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱ امورخه ۲۴ مارچ ۱۹۰۲ء صفحه ۳) حقیقی نیکی کرنے والوں کی یہ خصلت ہے کہ وہ محض خدا کی محبت کے لئے وہ کھانے جو آپ پسند کرتے ہیں مسکینوں اور یتیموں اور قیدیوں کو کھلاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم تم پر کوئی احسان نہیں کرتے بلکہ یہ کام صرف اس بات کے لئے کرتے ہیں کہ خدا ہم سے راضی ہو اور اس کے منہ کے لئے یہ خدمت ہے۔ ہم تم سے نہ تو کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ یہ چاہتے ہیں کہ تم ہمارا شکر کرتے پھرو۔ یہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ایصال خیر کی تیسری قسم جو محض ہمدردی کے جوش سے ہے وہ طریق بجالاتے ہیں۔ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۵۷) طعام کہتے ہی پسندیدہ طعام کو ہیں ۔ سڑا ہوا باسی طعام نہیں کہلاتا ۔ الغرض اس رکابی میں سے جس میں ابھی تازہ کھانا لذیذ اور پسندیدہ رکھا ہوا ہے اور کھانا شروع نہیں کیا ۔ فقیر کی صدا پر نکال کر دے تو یہ تو نیکی ہے۔ بریکار اور نکمی چیزوں کے خرچ سے کوئی آدمی نیکی کرنے کا دعوی نہیں کر سکتا۔ نیکی کا دروازہ تنگ ہے۔ پس یہ امر ذہن نشین کر لوک ٹنکی چیزوں کے خرچ کرنے سے کوئی اس میں داخل نہیں ہوسکتا۔ رپورٹ جلسہ سالانہ ۱۸۹۷ء صفحہ ۷۹) اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو يُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِينَا وَ يَتِيمَا وَ أَسِيرًا الخ یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں