تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 144
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۴ دوسرا شربت خدا کی محبت دل میں بھرنے کا جس کا نام قرآن شریف نے شربت زنجیلی رکھا ہے۔سورة الدهر ) لیکچر سیالکوٹ ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۲۳۵) صرف ترک ذنوب ہی نیکی کی شرط نہیں بلکہ کسب خیر بھی اعلیٰ جزو ہے۔کوئی انسان کامل نہیں ہوسکتا۔جب تک دونوں قسم کے شربت نہیں پی لیتا۔سورۃ دہر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایک شربت کا فوری ہوتا ہے اور دوسرا شربت نجیبلی ہوتا۔یہ مقربوں اور برگزیدہ لوگوں کو دونوں شربت پلائے جاتے ہیں۔کا فوری شربت کے پینے سے انسان کا دل ٹھنڈا ہو جاتا ہے اور گناہ کے قومی ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں۔کافور میں گندے مواد کے دبانے کی تاثیر ہے۔پس وہ لوگ جن کو شربت کا فوری پلایا جاتا ہے۔ان کے گناہ والے قومی بالکل دب ہی جاتے ہیں اور پھر ان سے گناہ کا ارتکاب ہوتا ہی نہیں اور ایک قسم کی سکینت جس کو شانتی کہتے ہیں میسر آجاتی ہے اور ایک نور پانی کی طرح اترتا ہے جو ان کے سینے میں سارے گندوں کو دھو ڈالتا ہے۔اور سفلی زندگی کے تمام تعلقات ان سے الگ کر دیئے جاتے ہیں۔اور گناہ کی آگ کی بھڑک ہمیشہ کے واسطے ٹھنڈی پڑ جاتی ہے، مگر یا درکھو صرف یہی امریکی اور خوبی نہیں ہے۔۔۔ترک ذنوب کو اللہ تعالیٰ نے شربت کا فوری کی ملونی سے تشبیہ دی ہے۔اس کے بعد دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ انسان کو شربت زنجیلی پلا یا جاوے۔زنجبیل سونٹھ کو کہتے ہیں۔زنجبیل مرکب ہے لفظ زنا اور جیل سے زنجبیل کی تاثیر ہے کہ حرارت غریزی کو بڑھاتی ہے۔اور لغوی معنے اس کے ہیں پہاڑ پر چڑھنا۔اس میں جو نکتہ رکھا گیا ہے۔وہ یہ ہے کہ جس طرح پہاڑ پر چڑھنا مشکل کام ہے اور وہ اس مقوی چیز کے استعمال سے آسان ہو جاتا ہے اس طرح روحانی نیکی کے پہاڑ پر چڑھنا بھی سخت دشوار ہے۔وہ روحانی شربت زنجبیل سے آسان ہو جاتا ہے۔خالص اعمال محض اللہ اخلاص اور ثواب کے ماتحت بجالانا بھی ایک پہاڑ ہے اور سخت دشوار گزار گھائی سے مشابہ ہے۔ہر ایک پاؤں کا یہ کام نہیں کہ وہاں پہنچ سکے۔الحکم جلد ۱۲ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰رمئی ۱۹۰۸ء صفحه ۳) مسلمان کو مرتے وقت کا فور کا استعمال کرنا سنت ہے۔یہ اس لئے کہ کا فور ایسی چیز ہے جو وبائی کیٹروں کو مارتی اور سمیت کو دور کرتی ہے۔انسان کے لئے ٹھنڈک پہنچاتی ہے۔بہت سی عفونی بیماریوں کو روکتی ہے اس لئے قرآن میں حکم ہے کہ مومنوں کو کا فوری شربت پلا یا جاوے گا اور آج کل کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ کا فور جیسا ہیضہ کے لئے مفید ہے۔ویسا ہی طاعون کے لئے مفید ہے میں اپنی جماعت کو بتلاتا ہوں کہ یہ