تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 143
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۳ سورة الدهر ہو جاتی ہیں اور بدی کے مواد دب جاتے ہیں۔اس کے بعد اس کو دوسرا شربت پلا یا جاتا ہے جو قرآن کریم کی اصطلاح میں شربت بنجیلی ہے جیسا کہ فرما یا يُسْقَوْنَ فِيهَا كَأْسًا كَانَ مِزَاجُهَا زَنْجَبِيلًا - زنجبيل مرکب ہے زنا اور جَبَل سے زَنَا الجَبَل کے یہ معنے ہیں کہ ایسی حرارت اور گرمی پیدا ہو جاوے کہ پہاڑ پر چڑھ جاوے۔زنجبیل میں حرارت غریزی رکھی گئی ہے اور اس کے ساتھ انسان کی حرارت غریزی کو فائدہ پہنچتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ بڑے بڑے کام جو میری راہ میں کئے جاتے ہیں جیسے صحابہ نے کئے۔یہاں تک کہ انہوں نے اپنی جانوں سے دریغ نہیں کیا۔خدا تعالیٰ کی راہ میں سر کٹوا دینا آسان امر نہیں ہے۔جس کے بچے چھوٹے چھوٹے اور بیوی جوان ہو۔جب تک کوئی خاص گرمی اس کی روح میں پیدا نہ ہو۔کیوں کر انہیں یتیم اور بیوہ چھوڑ کر سر کٹوالے۔میں صحابہ سے بڑھ کر کوئی نمونہ پیش نہیں کر سکتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اعلیٰ درجہ کی قوت قدی اور تزکیہ نفس کی طاقت کا ہے اور صحابہ کا نمونہ اعلیٰ درجہ کی تبدیلی اور فرمانبرداری کا ہے۔پس ایسی طاقت اور یہ قوت اس زنجیلی شربت کی تاثیر سے پیدا ہوتی ہے اور حقیقت میں کا فوری شربت کے بعد طاقت کو نشو ونما دینے کے لیے اس زنجیلی شربت کی ضرورت بھی تھی۔اولیاء اور ابدال جو خدا تعالیٰ کی راہ میں سرگرمی اور جوش دکھاتے ہیں۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ زنجیلی جام پیتے رہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعویٰ کیا تو غور کرو کہ کس قدر مخالفت کا بازار گرم تھا۔ایک طرف مشرک تھے۔دوسری طرف عیسائی بے حد جوش دکھا رہے تھے جنہوں نے ایک عاجز انسان کو خدا بنا رکھا تھا اور ایک طرف یہودی سیاہ دل تھے۔یہ بھی اندر ہی اندر ریشہ دوانیاں کرتے اور مخالفوں کو اکساتے اور اُبھارتے تھے۔غرض جس طرف دیکھو مخالف ہی مخالف نظر آتے تھے۔قوم دشمن، پرائے دشمن، جدھر نظر اُٹھاؤ دشمن ہی دشمن تھے۔ایسی حالت اور صورت میں وہ زنجیلی شربت ہی تھا جو آپ کو اپنے پیغام رسالت کی تبلیغ کے لیے آگے ہی آگے لے جاتا تھا۔کسی قسم کی مخالفت کا ڈر آپ کو باقی نہ رہا تھا۔اس راہ میں مرنا سہل اور آسان معلوم ہوتا تھا چنانچہ صحابہ اگر موت کو اس راہ میں آسان اور آرام دہ چیز نہ سمجھ لیتے تو کیوں جانیں دیتے۔میں سچ کہتا ہوں کہ جب تک یہ شربت نہیں پیتا ایمان کا ٹھکانا نہیں۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۴ مورخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۰۶ ء صفحه ۳) قرآن شریف نے خوب مثال دی ہے اور وہ یہ کہ کوئی مومن کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ دو شربت نہ پی لے۔پہلا شربت گناہ کی محبت ٹھنڈی ہونے کا جس کا نام قرآن شریف نے شربت کا فوری رکھا ہے۔اور