تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page xvii
صفحه ۲۶۵ ۲۶۸ ۲۶۷ ۲۶۷ ۲۶۸ ۲۷۹ ۲۸۱ ۲۸۷ xvi نمبر شمار ۱۳۸ ۱۳۹ ۱۴۰ ۱۴۱ ۱۴۲ ۱۴۳ ۱۴۴ ۱۴۵ مضمون قرآن شریف میں بعض بعض چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں ان قسموں سے ہر جگہ یہی مدعا اور مقصد ہے کہ تا امر بدیہہ کو اسرار مخفیہ کے لئے جوان کے ہم رنگ ہیں بطور شواہد کے پیش کیا جائے انسان میں وہ متفرق کمالات موجود ہیں جو تمام عالم میں پائے جاتے ہیں اور ان پر یقین لانے کے لئے یہ ایک سیدھی راہ ہے کہ انسان حسب منشائے قانون الہی تزکیہ نفس کی طرف متوجہ ہو انسان کا نفس بھی در حقیقت اس غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تا وہ ناقتہ اللہ کا کام دیوے ناقتہ اللہ کا سقیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یا دالہی اور معارف الہیہ کا چشمہ ہے جس پر ناقہ اللہ کی زندگی موقوف ہے بند مت کرو سورج بحکمت کا ملہ الہی ۔۔۔۔ اپنے تئیں متشکل کر کے دنیا پر مختلف قسموں کی تاثیرات ڈالتا ہے نفس انسان بھی باعتبار مختلف تعینات کے مختلف تاثیرات ڈالتا ہے تزکیہ نفس بڑا مشکل مرحلہ ہے اور مدار نجات تزکیہ نفس پر موقوف ہے مجاہدہ انسانی نفس کو اس کی خرابیوں اور سختیوں سے صاف کر کے اس قابل بنا دیتا ہے کہ اس میں ایمان صحیحہ کی تخم ریزی کی جاوے اوی کا لفظ زبان عرب میں ایسے موقع پر استعمال ہوتا ہے کہ جب کسی شخص کو کسی قدر مصیبت یا ابتلا کے بعد اپنی پناہ میں لیا جائے