تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 142 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 142

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۴۲ سورة الدهر گا فورا۔ایسے لوگ جو کا فوری شربت پی لیتے ہیں۔ان کے دل ہر قسم کی خیانت ظلم ، ہر نوع کی بدی اور برے قومی سے دل ٹھنڈے ہوتے ہیں۔اور یہ بات ان میں طبعاً اور فطرتا پیدا ہوتی ہے نہ کہ تکلف سے۔وہ ہر قسم کی بدیوں سے بیزار ہو جاتے ہیں۔یہ سچ ہے کہ یہ معمولی بات نہیں۔بدیوں کا چھوڑ دینا آسان نہیں۔انجیل کا اکثر حصہ اس سے پر ہے کہ برے کام نہ کر و۔مگر یہ پہلا زینہ ہے تکمیل ایمان کا۔اسی پر قانع نہیں ہو جانا چاہیے۔ہاں اگر انسان اس پر عمل کرے اور بدیوں کو چھوڑ دے تو دوسرے حصہ کے لیے اللہ تعالی آپ ہی مدد دیتا ہے۔یہ بات انسان منہ سے تو کہہ سکتا ہے کہ میں بدیوں سے پر ہیز کرتا ہوں لیکن جب مختلف قسم کے برے کام سامنے آتے ہیں۔تو بدن کانپ جاتا ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۲ مورخه ۲۴ / جون ۱۹۰۶ صفحه ۳) تقویٰ کیا ہے؟ ہر قسم کی بدی سے اپنے آپ کو بچانا۔پس خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابرار کے لیے پہلا انعام شربت کا فوری ہے۔اس شربت کے پینے سے دل برے کاموں سے ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔اس کے بعد ان کے دلوں میں برائیوں اور بدیوں کے لیے تحریک اور جوش پیدا نہیں ہوتا۔ایک شخص کے دل میں یہ خیال تو آ جاتا ہے کہ یہ کام اچھا نہیں یہاں تک کہ چور کے دل میں بھی یہ خیال آ ہی جاتا ہے مگر جذ بہ دل سے وہ چوری بھی کر ہی لیتا ہے۔لیکن جن لوگوں کو شربت کا فوری پلا دیا جاتا ہے ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ ان کے دل میں بدی کی تحریک ہی پیدا نہیں ہوتی بلکہ دل برے کاموں سے بیزار اور متنفر ہو جاتا ہے۔گناہ کی تمام تحریکوں کے مواد د بادیئے جاتے ہیں۔یہ بات خدا تعالیٰ کے فضل کے سوا میسر نہیں آتی۔جب انسان دعا اور عقد ہمت سے خدا تعالیٰ کے فضل کو تلاش کرتا ہے اور اپنے نفس کے جذبات پر غالب آنے کی سعی کرتا ہے تو پھر یہ سب باتیں فضل الہی کو کھینچ لیتی ہیں اور اُسے کا فوری جام پلایا جاتا ہے۔جو لوگ اس قسم کی تبدیلی کرتے ہیں اللہ تعالی انہیں زمرہ ابدال میں داخل فرماتا ہے۔اور یہی تبدیلی ہے جو ابدال کی حقیقت کو ظاہر کرتی ہے۔الحکم جلد ۱۰ نمبر ۲۴ مورخه ۱۰ر جولائی ۱۹۰۶ صفحه ۲) انسان کا اتنا ہی کمال نہیں ہے کہ بدیاں چھوڑ دے کیونکہ اس میں اور بھی شریک ہیں یہاں تک کہ حیوانات بھی بعض امور میں شریک ہو سکتے ہیں۔بلکہ انسان کامل نیک تب ہی ہوتا ہے کہ نہ صرف بدیوں کو ترک کرے بلکہ اس کے ساتھ نیکیوں کو بھی کامل درجہ تک پہنچا دے۔پس جب ترک شر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُسے کا فوری شربت پلاتا ہے۔جس سے یہ مراد ہے کہ وہ جوش اور تحریکیں جو بدی کے لیے پیدا ہوتی تھیں سرد