تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 130
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۳۰ سورة القيامة بِهذِهِ الْآيَةِ، فَلَا شَكَ أَنَّهَا أُمُورٌ مَا سُمِعَ ہے پس کچھ شک نہیں کہ یہ تمام امور ایسے ہیں جو پہلے کسی اجْتِمَاعُهَا فِي أَوَّلِ الزَّمَانِ - زمانہ میں جمع نہیں ہوئے۔( ترجمہ اصل کتاب سے ) (نور الحق حصہ دوم ، روحانی خزائن جلد ۸ صفحه ۲۱۳ تا ۲۱۵) انسان کا اپنا جسم ہی اس کو حشر نشر پر ایمان لانے کے لئے مجبور کرتا ہے کیونکہ ہر آن اس میں حشر نشر ہو رہا ہے یہاں تک کہ تین سال کے بعد یہ جسم رہتا ہی نہیں اور دوسرا جسم آ جاتا ہے یہی قیامت ہے۔اس کے سوا یہ ضروری امر نہیں کہ کل مسائل کو عقلی طور پر ہی سمجھ لے بلکہ انسان کا فرض ہے کہ وہ اس بات پر ایمان لائے کہ اللہ تعالیٰ اپنے افعال اور صفات کے ساتھ موجود ہے اور اس کی صفات میں سے یہ بھی ہے يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ اور عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرُ۔تو اس بات کے ماننے میں کہ قیامت ہوگی کیا شک ہو سکتا ہے خصوصاً ایسی حالت میں کہ ہم اس کا ثبوت یہاں بھی رکھتے اور دیکھتے ہوں۔بے شک قیامت حق ہے اور اس کی قدرتوں کا ایک نمونه أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( البقرة : ۱۰۷) سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ حشر و نشر پر بھی قادر ہے اور حشر نشر قدرت ہی پر موقوف ہے۔احکم جلد ۹ نمبر ۴۰ مورخه ۱۷ رنومبر ۱۹۰۵ء صفحه ۸) إِنَّ الدَّارَ قُطبى قَدْ رَوَى عَنْ مُحَمَّدٍ الْبَاقِرِ مِنِ ابْنِ دار قطنی نے امام محمد باقر سے روایت کی زَيْنِ الْعَابِدِينَ، وَهُوَ مِنْ بَيْتِ التَّطْهِيرِ وَالْعِصْمَةِ وَمِن ہے کہ ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں کہ قَوْمٍ مُطَهَّرِينَ، قَالَ قَالَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ مِن جب سے کہ زمین و آسمان پیدا کئے گئے الْأَسْنَاءِ الصَّادِقِينَ إِنَّ لِمَهْدِينَا ايَتَيْنِ لَمْ تَكُونَا کبھی ظہور میں نہیں آئے یعنی یہ کہ قمر کی پہلی مُنْذُ خُلِقَ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُونَ يَنكَسِفُ الْقَمَرُ رات میں اس کی تین راتوں میں سے جو لأَوَّلِ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ يَعْنِي فِي أَوَّلِ لَيْلَةٍ مِّنْ لَيَالِي خسوف کے لئے مقرر ہیں خسوف ہوگا۔اور خُسُوفِهِ وَلَا يُجَاوِزُ ذَالِكَ الْآوَانَ، وَيَقَعُ فِي الشَّهْرِ الَّذِى سورج کے تین دنوں میں سے جو اس کے أَنْزَلَ اللهُ فِيْهِ الْقُرْآنَ وَتَنْكَسِفُ الشَّمْسُ فِي النِّصْفِ کسوف کے لئے مقرر ہیں۔بیچ کے دن مِنْهُ يَعْنِى فِي نِصْفٍ مِنْ أَيَّامٍ كُسُوفِهَا الْمَعْلُومَةِ عِنْدَ میں کسوف ہوگا۔اور یہ بھی اسی رمضان میں أَهْلِ الْعِرْفَانِ فِي ذَالِكَ الشَّهْرِ الْمُزَانِ تم ہوگا۔اور یہ بھی جاننا چاہیے اعْلَمُ أَنَّ ايَةَ الْخُسُوفِ وَالْكُسُوفِ قَد ذَكَرَهَا الْقُرْآنُ که قرآن شریف نے کسوف خسوف کے في أَنْبَاء قُرْبِ الْقِيَامَةِ، وَإِنْ شِئْتَ فَاقْرَأْ هَذِهِ الْآيَةَ نشان کو قرب قیامت کے نشانوں میں سے