تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 117
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 112 میل کچیل اور کثافت سے بچاؤ یعنی غسل کرتے رہو اور گھروں کو صاف رکھنے کی عادت پکڑو۔سورة المدثر اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد ۱۰ صفحه ۳۳۷) (رسالہ الانذار صفحہ ۷) وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ۔ہر ایک قسم کی پلیدی سے پر ہیز کرو۔ہجر دور چلے جانے کو کہتے ہیں اس سے یہ معلوم ہوا کہ روحانی پاکیزگی چاہنے والوں کے لئے ظاہری پاکیزگی اور صفائی بھی ضروری ہے کیونکہ ایک قوت کا اثر دوسری پر اور ایک پہلو کا اثر دوسرے پر ہوتا ہے۔دو حالتیں ہیں۔جو باطنی حالت تقویٰ اور طہارت پر قائم ہونا چاہتے ہیں وہ ظاہری پاکیزگی بھی چاہتے ہیں۔۔۔۔پس یاد رکھو کہ ظاہری پاکیزگی اندرونی طہارت کو مستلزم ہے اس لئے لازم ہے کہ کم از کم جمعہ کو نسل کرو۔ہر نماز میں وضو کرو۔جماعت کھڑی کرو تو خوشبولگا لو۔از ہر لگالو۔عیدین میں اور جمعہ میں خوشبو لگانے کا جو حکم ہے وہ اسی بناء پر قائم ہے۔اصل وجہ یہ ہے کہ اجتماع کے وقت عفونت کا اندیشہ ہے۔پس غسل کرنے اور صاف کپڑے پہنے اور خوشبو لگانے سے سمیت اور عفونت سے روک ہوگی۔وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ یعنی " ہر ایک پلیدی سے جدارہ یہ احکام اسی لئے ہیں کہ تا انسان حفظانِ صحت کے اسباب کی رعایت رکھ کر اپنے تئیں جسمانی بلاؤں سے بچاوے۔عیسائیوں کا یہ اعتراض ہے کہ یہ کیسے احکام ہیں جو ہمیں سمجھ نہیں آتے کہ قرآن کہتا ہے کہ تم غسل کر کے اپنے بدنوں کو پاک رکھو اور مسواک کرو ،خلال کرو اور ہر ایک جسمانی پلیدی سے اپنے تئیں اور اپنے گھر کو بچاؤ۔اور بد بوؤں سے دُور رہو اور مُردار اور گندی چیزوں کو مت کھاؤ۔اس کا جواب یہی ہے کہ قرآن نے اُس زمانہ میں عرب کے لوگوں کو ایسا ہی پایا تھا اور وہ لوگ نہ صرف رُوحانی پہلو کے رُو سے خطر ناک حالت میں تھے بلکہ جسمانی پہلو کے رُو سے بھی اُن کی صحت نہایت مخطرہ میں تھی۔سو یہ خدا تعالیٰ کا اُن پر اور تمام دنیا پر احسان تھا کہ حفظان صحت کے قواعد مقرر فرمائے۔یہاں تک کہ یہ بھی فرما دیا کہ كُلُوا وَاشْرَبُوا وَ لَا تُسْرِفُوا یعنی بے شک کھاؤ پیو مگر کھانے پینے میں بے جاطور پر کوئی زیادت کیفیت یا کمیت کی مت کرو۔افسوس پادری اس بات کو نہیں جانتے کہ جو شخص جسمانی پاکیزگی کی رعایت کو بالکل چھوڑ دیتا ہے وہ رفتہ رفتہ وحشیانہ حالت میں گر کر رُوحانی پاکیزگی سے بھی بے نصیب رہ جاتا ہے۔مثلاً چند روز دانتوں کا خلال کرنا چھوڑ دو جو ایک ادنیٰ صفائی کے درجہ پر ہے تو وہ فضلات جو دانتوں میں پھنسے رہیں گے اُن میں سے مردار کی بو آئے گی۔آخر دانت خراب ہو جائیں گے اور اُن کا زہریلا اثر معدہ پر گر کر معدہ بھی فاسد ہو جائے گا۔خود غور کر کے دیکھو کہ جب دانتوں کے اندر