تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 115 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 115

تفسیر حضرت مسیح موعود علیه السلام اعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطِنِ الرَّحِيمِ ۱۱۵ سورة المدثر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ تفسير سورة المدثر بیان فرموده سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بِسمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ يَايُّهَا الْمُدَّثِرُن قُمْ فَانْذِرُ وَرَبَّكَ فَكَبِّرُ وَثِيَابَكَ فَطَهَّرُ وَالرُّجْزَ فَاهْجُرُ انبیاء کی طبیعت اسی طرح واقعہ ہوتی ہے کہ وہ شہرت کی خواہش نہیں کیا کرتے۔کسی نبی نے کبھی شہرت کی خواہش نہیں کی۔ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی خلوت اور تنہائی کو ہی پسند کرتے تھے۔آپ تعبادت کرنے کے لئے لوگوں سے دور تنہائی کی غار میں جو غار حرا تھی چلے جاتے تھے۔یہ غار اس قدر خوفناک تھی کہ کوئی انسان اس میں جانے کی جرات نہ کر سکتا تھا۔لیکن آپ نے اس کو اس لئے پسند کیا ہوا تھا کہ وہاں کوئی ڈر کے مارے نہیں پہنچے گا۔آپ بالکل تنہائی کو چاہتے تھے۔شہرت کو ہرگز پسند نہیں کرتے تھے مگر خدا کا حکم وا يَايُّهَا الْمُدَّثِرُ قُمْ فَانْذِرُ۔اس حکم میں ایک جبر معلوم ہوتا ہے اور اسی لئے جبر سے حکم دیا گیا کہ آپ تنہائی کو جو آپ کو بہت پسند تھی اب چھوڑ دیں۔( البدر جلد ۳ نمبر ۳۲ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۴ صفحه ۴،۳) / آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک اور کامیاب زندگی کی تصویر یہ ہے کہ آپ ایک کام کے لئے آئے اور اسے پورا کر کے اس وقت دنیا سے رخصت ہوئے جس طرح بند و بست والے پورے کاغذات پانچ برس میں مرتب کر کے آخری رپورٹ کرتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں اسی طرح پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی