تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 109 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 109

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۹ سورة المزمل اس پیشگوئی سے خدا کے وجود کا پتہ لگتا ہے کہ وہ کیسا قادر اور زبردست خدا ہے کہ کوئی بات اس کے آگے انہونی نہیں۔ اس جگہ سے طالب حق کے لیے حق الیقین کے درجہ تک یہ معرفت پہنچ جاتی ہے کہ آنے والا مسیح موعود امت محمدیہ میں سے ہے نہ کہ وہی عیسی نبی اللہ دوبارہ دنیا میں آکر رسالت محمدیہ کی ختمیت کے مسئلہ کو مشتبہ کر دے گا۔ اور نعوذ باللہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کا کذب ثابت کرے گا ۔ ۔۔۔ مثیل موسیٰ کا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جیسا کہ آیت اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا أَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا سے ثابت ہے۔ (تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۳۰۶،۳۰۵) ہم نے ایک رسول کو جو تم پر گواہ ہے یعنی اس بات کا گواہ کہ تم کیسی خراب حالت میں ہو تمہاری طرف اسی رسول کی مانند بھیجا ہے جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔ سو اس آیت میں اللہ جل شانہ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مثیل موسیٰ ٹھہرایا ہے۔ ( تذكرة الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه (۱۲) جبکہ خدا تعالیٰ نے موسوی سلسلہ کو ہلاک کر کے محمد ی سلسلہ قائم کیا جیسا کہ نبیوں کے صحیفوں میں وعدہ دیا گیا تھا تو اس حکیم و علیم نے چاہا حکیم و علیم نے چاہا کہ اس سلسلہ کے اول اور آخر دونوں میں مشابہت تامہ پیدا کرے تو پہلے اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو مبعوث فرما کر مثیل موسی قرار دیا جیسا کہ آیت إِنَّا أَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولًا سے ظاہر ہے۔ حضرت موسی نے کافروں کے مقابل پر تلوار اُٹھائی تھی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس وقت جبکہ مکہ سے نکالے گئے اور تعاقب کیا گیا مسلمانوں کی حفاظت کے لئے تلوار اُٹھائی۔ ایسا ہی حضرت موسی کی نظر کے سامنے سخت دشمن ان کا جو فرعون تھا غرق کیا گیا۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سخت دشمن آپ کا جو ابو جہل تھا ہلاک کیا گیا۔ ایسا ہی اور بہت سی مشابہتیں ہیں جن کا ذکر کرنا موجب طول ہے۔ یہ تو سلسلہ کے اول میں مشابہتیں ہیں مگر ضروری تھا کہ سلسلہ محمدی کے آخری خلیفہ میں بھی سلسلہ موسویہ کے آخری خلیفہ سے مشابہت ہو۔ تا خدا تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ سلسلہ محمد یہ باعتبار امام سلسلہ اور خلفاء سلسلہ کے سلسلہ موسویہ سے مشابہ ہے ٹھیک ہو اور ہمیشہ مشابہت اول اور آخر میں دیکھی جاتی ہے اور درمیانی زمانہ جو ایک طویل مدت ہوتی ہے گنجائش نہیں رکھتا کہ پوری پوری نظر سے اس کو جانچا جائے مگر اول اور آخر کی مشابہت سے یہ قیاس پیدا ہو جاتا ہے کہ درمیان میں بھی ضرور مشابہت ہو گی گونظر عقلی اس کی پوری پڑتال سے قاصر رہے۔ ( تذکرۃ الشهادتين ، روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۳۰)