تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 108 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 108

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام ۱۰۸ سورة المزمل دریائے نیل اور بدر کے آپس میں مماثلت رکھتے ہیں۔غرض جبکہ یہ ثابت ہوا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم در حقیقت مثیل موسیٰ ہیں تو تکمیل مماثلت کا یہ تقاضا تھا کہ اُن کے پیروؤں اور خلفاء میں بھی مماثلت ہو۔اور یہ بات ضروری تھی کہ جیسا کہ موسیٰ اور سید نا محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں ایک اشد اور اکمل مشابہت مومنوں کے نجات دینے اور کافروں کو عذاب دینے کے بارے میں پائی گئی ان دونوں بزرگ نبیوں کے آخری خلیفوں میں بھی کوئی مشابہت با ہم پائی جائے۔سو جب ہم سوچتے ہیں تو جیسا کہ ابھی میں نے بیان کیا ہے نہ صرف ایک مشابہت بلکہ کئی مشابہتیں ثابت ہوتی ہیں جو مجھ میں اور حضرت عیسی علیہ السلام میں پائی جاتی ہیں۔ایام الصلح ، روحانی خزائن جلد ۱۴ صفحه ۲۹۰ تا ۲۹۳) خدا تعالیٰ نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مثیل ٹھہرایا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو مسیح موعود تک سلسلہ خلافت ہے اسی سلسلہ کو خلافت موسویہ کے سلسلہ سے مشابہ قرار دیا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔اِنَّا اَرْسَلْنَا إِلَيْكُمْ رَسُولًا شَاهِدًا عَلَيْكُمْ كَمَا اَرْسَلْنَا إِلَى فِرْعَوْنَ رَسُولاً یعنی ہم نے یہ پیغمبر اس پیغمبر کی مانند تمہاری طرف بھیجا ہے کہ جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔اور یہ اس بات کا گواہ ہے کہ تم کیسی ایک سرکش اور متکبر قوم ہو جیسے کہ فرعون متکبر اور سرکش تھا۔(تحفہ گولڑویہ، روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحه ۱۸۳) ہم نے اس رسول کو اے عرب کے خونخوار ظالمو اسی رسول کی مانند بھیجا ہے جو تم سے پہلے فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔اب ظاہر ہے کہ اگر یہ پیشگوئی جو اس شد و مد سے قرآن شریف میں لکھی گئی ہے خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ اس دعوی دروغ کے ساتھ جو اپنے تئیں مثیل موسی کا ٹھہرالیا کبھی اپنے مخالفوں پر فتحیاب نہ ہو سکتے مگر تاریخ گواہی دے رہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ فتح عظیم اپنے مخالفوں پر حاصل ہوئی کہ بجز میں صادق دوسرے کے لئے ہرگز میسر نہیں آسکتی تھی۔پس مماثلت اس کا نام ہے جس کی تائید میں دونوں طرف سے تاریخی واقعات اس زور شور سے گواہی دے رہے ہیں کہ وہ دونوں واقعات بدیہی طور پر نظر آتے ہیں اور موسی کے یہ تین کام کہ گروہ مخالف کو جو مضر امن تھا ہلاک کرنا اور پھر اپنے گروہ کو حکومت اور دولت بخشا اور ان کو شریعت عطا کرنا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے انہی تین کاموں کے ساتھ ایسے مشابہ ہو گئے کہ گویا وہ دونوں کام ایک ہی ہیں۔یہ ایک ایسی مماثلت ہے جس سے ایمان قوی ہوتا ہے اور یقین کرنا پڑتا ہے کہ یہ دونوں کتابیں خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ