تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 107
تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+2 سورة المزمل ہمارے سید و مولی نے مکہ والوں کے ظلم سے چھڑایا انہوں نے بدر کے واقعہ کے بعد اسی طرح گیت گائے جیسے کہ بنی اسرائیل نے دریائے مصر کے سر پر گائے تھے اور وہ عربی گیت اب تک کتابوں میں محفوظ چلے آتے ہیں جو بدر کے میدان میں گائے گئے۔ایک دانا سمجھ سکتا ہے کہ اس پیشگوئی کی رُوح تو یہی مماثلت ہے۔پھر اگر یہ مماثلت امور مشہودہ محسوسہ میں سے نہ ہو اور مخالف کی نظر میں ایک امر ثابت شدہ اور بدیہیات اور مسلمات کے رنگ میں نہ ہو تو کیوں کر ایسا بیہودہ دعویٰ ایک طالب حق کے ہدایت پانے کے لئے رہبر ہو سکتا ہے۔اس میں کیا شک ہے کہ یسوع کا منجی ہونا عیسائیوں کا صرف ایک دعوی ہے جس کو وہ دلائل عقلیہ کے رُو سے ثابت نہیں کر سکے اور نہ بدیہیات کے رنگ میں دکھلا سکے اور پوچھ کر دیکھ لو کہ وہ لوگ عیسائیت اور دوسری قوموں میں کوئی ما بہ الامتیاز دکھلا نہیں سکتے جس سے معلوم ہو کہ صرف یہ قوم نجات یافتہ اور دوسرے سب لوگ نجات سے محروم ہیں۔بلکہ ثابت تو یہ ہے کہ یہ قوم روحانیت اور فیوض سماوی اور نجات کی روحانی علامات اور برکات سے بالکل بے بہرہ ہے۔پھر مماثلت کیوں کر اور کس صورت سے ثابت ہو مماثلت تو امور بدیہیہ اور محسوسہ اور مشہودہ میں ہونی چاہئیے تا لوگ اُس کو یقینی طور پر شناخت کر کے اس سے شخص مثیل کو شناخت کریں۔کیا اگر آج ایک شخص مثیل موسیٰ ہونے کا دعویٰ کرے اور مماثلت یہ پیش کرے کہ میں رُوحانی طور پر قوم کا منجی ہوں اور نجات دینے کی کوئی محسوس اور مشہود علامت نہ دکھلاوے تو کیا عیسائی صاحبان اُس کو قبول کر لیں گے کہ درحقیقت یہی مثیل موسیٰ ہے؟ پس سچا فیصلہ اور ایمان کا فیصلہ اور انصاف کا فیصلہ یہی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام مثیل موسیٰ ہرگز نہیں ہیں اور خارجی واقعات کا نمونہ کوئی انہوں نے ایسا نہیں دکھلایا جس سے مومنوں کی نجات دہی اور کفار کی سزا دہی میں حضرت موسیٰ سے اُن کی مشابہت ثابت ہو بلکہ برعکس اس کے اُن کے وقت میں مومنوں کو سخت تکالیف پہنچیں جن تکالیف سے خود حضرت عیسیٰ بھی باہر نہ رہے۔پس ہم ایمان کو ضائع کریں گے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک خائن ٹھہریں گے اگر ہم یہ اقرار نہ کریں کہ وہ مثیل جس کا توریت کتاب استثنا میں ذکر ہے وہ وہی نبی مؤید الہی ہے جو معہ اپنی جماعت کے تیرہ برس برابر دکھ اٹھا کر اور ہر ایک قسم کی تکلیف دیکھ کر آخر معہ اپنی جماعت کے بھاگا۔اور اس کا تعاقب کیا گیا آخر بدر کی لڑائی میں چند گھنٹوں میں فیصلہ ہو کر ابو جہل اور اس کا لشکر تلوار کی دھار سے ایسے ہی مارے گئے جیسا کہ دریائے نیل کی دھار سے فرعون اور اس کے لشکر کا کام تمام کیا گیا۔دیکھو کیسی صفائی اور کیسے مشہور اور محسوس طور پر یہ دونوں واقعات مصر اور مکہ اور