تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 460

تفسیر حضرت مسیح موعودؑ (جلد ۸) — Page 106

تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1+4 سورة المزمل ہیں۔کیونکہ اس آیت کے یہی معنے ہیں کہ ہم نے اس نبی کو اس نبی کی مانند بھیجا ہے جو فرعون کی طرف بھیجا گیا تھا۔اور واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہ بیان اللہ جل شانہ کا بالکل سچا ہے۔وجہ یہ کہ جس طرح خدا تعالیٰ نے موسیٰ کو فرعون کی طرف بھیج کر آخر فرعون کو بنی اسرائیل کی نظر کے سامنے ہلاک کیا اور نہ خیالی اور وہمی طور پر بلکہ واقعی اور مشہود اور محسوس طور پر فرعون کے ظلم سے بنی اسرائیل کو نجات بخشی اسی طرح یعنی بنی اسرائیل کی مانند خدا تعالیٰ کے راستباز بندے مکہ معظمہ میں تیرہ برس تک کفار کے ہاتھ سے سخت تکلیف میں رہے اور یہ تکلیف اُس تکلیف سے بہت زیادہ تھی جو فرعون سے بنی اسرائیل کو پہنچی۔آخر یہ راستباز بندے اُس برگزیدہ راستبازوں کے ساتھ اور اس کی ایما سے مکہ سے بھاگ نکلے اُس بھاگنے کی مانند جو بنی اسرائیل مصر سے بھاگے تھے۔پھر مکہ والوں نے قتل کرنے کے لئے تعاقب کیا اُسی تعاقب کی مانند جو فرعون کی طرف سے بنی اسرائیل کے قتل کے لئے کیا گیا تھا۔آخر وہ اُسی تعاقب کی شامت سے بدر میں اُس طرح پر ہلاک ہوئے جس طرح فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں ہلاک ہوا تھا اسی رمز کے کھولنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کی لاش بدر کے مردوں میں دیکھ کر فرمایا تھا کہ یہ شخص اس اُمت کا فرعون تھا۔غرض جس طرح فرعون اور اس کا لشکر دریائے نیل میں ہلاک ہونا امور مشہودہ محسوسہ میں تھا جس کے وقوع میں کسی کو کلام نہیں ہو سکتا اسی طرح ابو جہل اور اُس کے لشکر کا تعاقب کے وقت بدر کی لڑائی میں ہلاک ہونا امور مشہودہ محسوسہ میں سے تھا جس سے انکار کرنا حماقت اور دیوانگی میں داخل ہے۔سو یہ دونوں واقعات اپنے تمام سوانح کے لحاظ سے باہم ایسی مشابہت رکھتے ہیں کہ گویا دو توام بھائیوں کی طرح ہیں۔اور عیسائیوں کا یہ قول کہ یہ مثیل موسیٰ حضرت عیسی علیہ السلام ہیں بالکل مردود اور قابل شرم ہے کیونکہ مماثلت امور مشهوده محسوسہ یقینیہ قطعیہ میں ہونی چاہئیے نہ ایسے فضول اور وہمی دعوے کے ساتھ جو خود جائے بحث اور سخت انکار کی جگہ ہے۔یہ دعویٰ کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کے منبی تھے اور ایسا ہی یسوع بھی عیسائیوں کا منجی تھا کس قدر بودہ اور بے ثبوت خیال ہے۔کیونکہ یہ محض اپنے دل کے بے اثر تصورات ہیں جن کے ساتھ کوئی بدیہی اور روشن علامت نہیں ہے۔اور اگر نجات دینے کی کوئی علامت ہوتی تو یہود بکمال شکر گزاری اُسی طرح حضرت عیسی کو قبول کرتے اور اُن کے منجی ہونے کا اُسی قدر شکر کے ساتھ اقرار کرتے جیسا کہ دریائے نیل کے واقعہ کے بعد انہوں نے شکر گزاری کے گیت گائے تھے۔لیکن ان کے دلوں نے تو کچھ بھی محسوس نہ کیا کہ یہ کیسی نجات ہے کہ یہ شخص ہمیں دیتا ہے۔مگر وہ اسرائیلی یعنی خدا کے بندے جن کو